بنگلہ دیش، ہجوم کے تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات نے انسانی حقوق اور قانون کی عملداری پر سنگین سوالات اٹھا دیے

جمعہ 1 مئی 2026 23:16

ڈھاکہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 01 مئی2026ء) بنگلہ دیش میں ہجوم کے تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات نے انسانی حقوق اور قانون کی عملداری پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق اپریل کے دوران ملک بھر میں ایسے 49 واقعات میں کم از کم 21 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم میں بھی تشویشناک اضافہ دیکھا گیا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم منابادھیکار شونگسکرتی فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری ماہانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اپریل میں ہجوم کے تشدد کے 49 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں 21 افراد ہلاک ہوئے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس رجحان میں مسلسل اضافہ قانون کی عملداری کے کمزور ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس سے قبل مارچ میں 36 واقعات میں 19 افراد ہلاک اور 31 زخمی ہوئے تھے، جبکہ فروری میں 18، جنوری میں 21 اور گزشتہ سال دسمبر میں 10 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

(جاری ہے)

رپورٹ کے مطابق 11 اپریل کو کوشتیا میں ایک مذہبی شخصیت پیر عبد الرحمان المعروف شمیم الجہانگیر کو ہجوم نے تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا۔ اپریل کے دوران ہجوم کے تشدد کے 30 متاثرین کو زخمی حالت میں پولیس کے حوالے کیا گیا۔اعداد و شمار کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 3 افراد قتل کے الزام، 7 چوری، 7 جھگڑوں کے دوران ہلاک، دو ڈکیتی جبکہ دیگر افراد مبینہ توہین یا زمین کے تنازعات کے باعث تشدد کا نشانہ بنے۔