Live Updates

جب معاملات طے ہونے لگتے ہیں امریکا فوجی مہم شروع کرکے اسے تباہ کردیتا ہے

آیا یہ کسی تخریب کار (اسرائیل) کی کارستانی ہے جو ایک بار پھر امریکی صدر کو ایک نئی دلدل میں دھکیل رہی ہے؟، ایرانی وزیر خارجہ

muhammad ali محمد علی جمعہ 8 مئی 2026 19:46

جب معاملات طے ہونے لگتے ہیں امریکا فوجی مہم شروع کرکے اسے تباہ کردیتا ..
تہران (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2026ء) ایران کا کہنا ہے کہ جب معاملات طے ہونے لگتے ہیں امریکا فوجی مہم شروع کرکے اسے تباہ کردیتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق آبنائے ہرمز میں حالیہ کشیدگی پر ایران کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی تازہ ٹوئٹ میں کہا گیاہے کہ "جب بھی سفارتی طریقے سے معاملات حل کی جانب بڑھتے ہیں تو عین اسی موقع پر امریکا خطرناک فوجی مہم جوئی شروع کردیتا ہے۔

یہ بھونڈی حکمت عملی آیا کسی تخریب کار (اسرائیل) کی کارستانی ہے جو ایک بار پھر امریکی صدر کو ایک نئی دلدل میں دھکیل رہی ہے؟۔ وجہ کچھ بھی ہو نتیجہ ہمیشہ ایک ہی رہے گا اور وہ یہ کہ ایرانی کبھی دباؤ کے آگے جھکتے نہیں ہیں۔" دوسری جانب اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر اور مستقل نمائندے امیر سعید اروانی نے امریکا اور دیگر ممالک کی طرف سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے پیش کی گئی قرارداد کے مسودے کے جواب میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کا واحد ممکنہ حل جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنا، بحری ناکہ بندی اٹھانا اور معمول کی بحری نقل و حمل کو بحال کرنا ہے۔

(جاری ہے)

بی بی سی کے مطابق انہوں نے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں صحافیوں کو ایک بیان میں مزید کہا کہ امریکا کے اقدامات واضح طور پر اس کے بیان کردہ مقاصد سے متصادم ہیں اور اس نے خطے میں کشیدگی کو بڑھانے اور عدم استحکام کو مزید گہرا کرنے کا کام کیا ہے۔انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کا مؤقف واضح ہے، آبنائے ہرمز کا واحد ممکنہ حل جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنا، بحری ناکہ بندی کو ہٹانا اور معمول کی بحری نقل و حمل کو بحال کرنا ہے، اس کے برعکس، امریکا بحری جہاز کی آزادی کی آڑ میں سلامتی کونسل میں اپنی قرارداد کے مسودے کو سیاسی طور پر پیش کرنے کے لیے ایک ناقص اور سیاسی طور پر حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔

ان کے مطابق یوں امریکا بحران کو حل کرنے کے بجائے غیر قانونی اقدامات کی طرف بڑھا رہا ہے۔ایروانی نے قرارداد کے مسودے کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’اس مسودہ قرارداد میں بین الاقوامی جہاز رانی کی حمایت نہیں کی گئی ہے۔ اس مسودے کا اصل مقصد خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں ایران کے خلاف امریکا کی طرف سے کیے گئے غیر قانونی اقدامات کو قانونی حیثیت دینا ہے جس میں غیر قانونی بحری ناکہ بندی بھی شامل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قرارداد کے مسودے میں موجودہ صورتحال کی بنیادی وجہ کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے جو کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی طرف سے غیر قانونی فوجی جارحیت اور طاقت کا استعمال ہے۔اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر نے کہا کہ موجودہ بحران 28 فروری 2026 سے امریکا کی طرف سے مسلط کی گئی غیر قانونی جنگ کا براہ راست نتیجہ ہے۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات