یکم مئی(عالمی یومِ مزدور)پر حیدرآباد میں بھی یومِ مزدور منایا گیا

کمیونسٹ پارٹی ، واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک یونین، جسقم، اسپارک، ہاویز یونین، ریلوے مزدور یونین سمیت متعدد تنظیموں کی طرف سے حیدرآباد میں ریلیاں

جمعہ 1 مئی 2026 22:55

حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 01 مئی2026ء) یکم مئی(عالمی یومِ مزدور) پر حیدرآباد میں بھی یومِ مزدور منایا گیا، اس موقع پر کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان، واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک یونین، جسقم، اسپارک، ہاویز یونین، ریلوے مزدور یونین سمیت متعدد تنظیموں کی طرف سے حیدرآباد میں ریلیاں نکالی گئیں اور پریس کلب پر مظاہرے کئے گئے، جب کہ سماجی تنظیموں کی طرف سے نامور فنکاروں نے ٹیبلوز پیش کر کے بھرپور داد سمیٹی۔

جسقم کی جانب سے میڈیا کوآرڈینیٹر دیدار شام اور رحمن پیرزادہ کی قیادت میں ریلی پریس کلب پہنچی، سندھ ترقی پسند پارٹی نے رستم لاشاری، عرفان بروہی اور دیگر رہنماں کی قیادت میں ریلی نکالی اور نعرے بازی کی، ریلوے لیبر یونین کی جانب سے نیاز خاص خیلی، ہاویز یونین کی ریلی غلام مصطفی شینو، سندھ ہاری کمیٹی کی طرف سے کامریڈ ارباب رستمائی، جبکہ اسپارک کی جانب سے کاشف بجیر کی قیادت میں ریلیاں نکالی گئیں۔

(جاری ہے)

رہنماں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شکاگو کی کامیاب تحریک اور مزدوروں کی قربانیوں کو ڈیڑھ صدی سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، مگر آج کا مزدور ان عظیم قربانیوں کو سرخ سلام پیش کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیڑھ صدی سے زائد جدوجہد آج بھی جاری ہے اور سندھ سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں مزدوروں کا استحصال پہلے دن کی طرح جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ مزدور آج بھی جبری مشقت کا شکار ہیں۔

سرکاری ادارے ہوں یا نجی صنعتیں، مزدوروں کو قانونی حقوق دینے سے انکاری ہیں، سرکاری اداروں میں ٹھیکیداری نظام رائج ہے اور سندھ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ 40 ہزار روپے کم از کم اجرت سے مزدوروں کو محروم رکھا جا رہا ہے، رہنماں نے کہا کہ اس سے بھی بڑا ظلم یہ ہے کہ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، بلدیہ اور دیگر اداروں کے ملازمین نہ صرف کم از کم اجرت سے محروم ہیں بلکہ سوشل سیکیورٹی اور ای او بی آئی میں بھی رجسٹرڈ نہیں، انہوں نے کہا کہ اب تو سرکاری ملازمین بھی مستقل ملازمت، پنشن اور گریجویٹی جیسی سہولتوں سے محروم ہوتے جا رہے ہیں، رہنماں نے کہا کہ خواتین مزدوروں کو جو حقوق ماضی میں حاصل تھے، آج وہ بھی چھینے جا رہے ہیں، خواتین کو مختلف اقسام کے استحصال کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

انہیں مردوں کے برابر اجرت، مکمل تنخواہ کے ساتھ 120دن کی زچگی رخصت اور کام کی جگہ پر جنسی ہراسگی سے محفوظ ماحول فراہم نہیں کیا جا رہا۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اپنی کوتاہیوں کو چھپانے کے لئے منافع بخش اداروں کی نجکاری کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں مزدور اور ان کے اہلِ خانہ روزگار سے محروم ہو جائیں گے۔اس موقع پر اسپارک کی جانب سے مزدوروں کے مسائل پر تھیٹر پیش کیا گیا، جبکہ قراردادیں پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ ٹھیکیداری نظام ختم کر کے مستقل تقرریاں کی جائیں، یونین سازی اور اجتماعی سودے بازی کا غیر مشروط حق دیا جائے، سوشل سیکیورٹی اور ای او بی آئی میں رجسٹریشن کر کے مفت علاج کی سہولتیں فراہم کی جائیں۔

بڑھاپے میں پنشن کا حق دیا جائے اور کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔قرار دادوں میں مزید مطالبہ کیا گیا کہ سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ کے فلیٹس مزدوروں کو الاٹ کئے جائیں، جہیز گرانٹ، ڈیتھ گرانٹ اور دیگر اسکیمیں تمام شعبوں کے مزدوروں کو دی جائیں۔ خواتین مزدوروں کو مردوں کے برابر حقوق فراہم کیے جائیں، سرکاری ملازمتوں میں مستقل تقرری دے کر پنشن اور گریجویٹی کے حقوق بحال کیے جائیں، مزید کہا گیا کہ گگ ورکرز (فوڈ پانڈا، بائیکیا وغیرہ) کو سوشل سیکیورٹی اور پنشن کے حقوق دیئے جائیں، جبکہ ہاری مزدوروں کو صنعتی مزدوروں جیسے حقوق فراہم کئے جائیں۔