& تاندلیانوالہ آج بھی ترقی کے اسی مقام پر کھڑا ہے جہاں منظوروٹو نے چھوڑا تھاعائشہ منظور وٹو

اتوار 3 مئی 2026 17:25

ً جڑانوالہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 03 مئی2026ء) سیاسی و سماجی رہنما عائشہ منظور وٹو نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ تاندلیانوالہ آج بھی ترقی کے اسی مقام پر کھڑا ہے جہاں سے ان کے والد میاں منظور احمد وٹو نے اپنے دور میں اسے چھوڑا تھا انہوں نے کہا کہ وقت گزرنے کے باوجود علاقے کی حالت میں کوئی بنیادی تبدیلی نظر نہیں آتی، جو ایک لمحہ فکریہ ہے عائشہ منظور وٹو نے عوامی مسائل پر بات کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا صرف اس بنیاد پر ووٹ دینا کافی ہے کہ کوئی ایم این اے یا ایم پی اے آپ کے گھر آ کر تعزیت یا ہمدردی کا اظہار کر دی ان کے مطابق عوام کو اب جذباتی فیصلوں کے بجائے عملی کارکردگی کو معیار بنانا ہوگاانہوں نے کہا کہ آج بھی تاندلیانوالہ اور گردونواح کے دیہات میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہینہ تو جدید ڈسپنسریوں کامناسب انتظام موجود ہے اور نہ ہی صحت کے شعبے میں کوئی خاطر خواہ بہتری آئی ہے۔

(جاری ہے)

دیہی علاقوں کے لوگ معمولی علاج کے لیے بھی بڑے شہروں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔عائشہ منظور وٹو نے مزید کہا کہ علاقے میں ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، بوسیدہ سیوریج سسٹم اور دیگر بنیادی انفراسٹرکچر کے مسائل آج بھی جوں کے توں موجود ہیں۔ بارش کے موسم میں گلیاں اور سڑکیں کیچڑ کا منظر پیش کرتی ہیں جبکہ نکاسی آب کا نظام مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتا ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ منتخب نمائندے عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے صرف تصویری سرگرمیوں اور محدود ملاقاتوں تک دکھائی دیتے ہیں، جبکہ زمینی حقائق جوں کے توں برقرار ہیں۔عائشہ منظور وٹو نے تاندلیانوالہ اور ماموں کانجن کے عوام سیاپیل کی کہ وہ اپنے فیصلوں میں شعور اور آگاہی کا مظاہرہ کریں انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ عوام اپنے ضمیر کو جگائیں اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں اور ووٹ دیتے وقت صرف وقتی تعلقات یا جذباتی وابستگی کے بجائے علاقے کی حقیقی ترقی اور کارکردگی کو سامنے رکھیں انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر عوام نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تو مسائل اسی طرح برقرار رہیں گے، لہٰذا تبدیلی کے لیے اجتماعی سوچ اور باخبر فیصلہ ناگزیر ہے۔