بلوچستان کے طلبہ ملکی جامعات میں تعلیم حاصل کرکے ملک و صوبے کی ترقی میں کردار ادا کریں، وزیراعلیٰ

جمعرات 13 اگست 2026 16:57

بلوچستان کے طلبہ ملکی جامعات میں تعلیم حاصل کرکے ملک و صوبے کی ترقی ..
کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 13 اگست2026ء) وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے مختلف صوبوں کی جامعات میں اسکالرشپ پر اعلیٰ تعلیم کے لیے منتخب بلوچستان کے طلبہ و طالبات سے ملاقات کی جس کے دوران ترقیاتی منصوبوں، گورننس، تعلیم اور دیگر اہم امور پر تفصیلی مکالمہ ہوا۔ اس موقع پر طلبہ و طالبات نے وزیراعلیٰ سے مختلف امور سے متعلق سوالات بھی کیے جن کے انہوں نے تفصیلی جوابات دیئے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے مختلف اضلاع سے طلبہ و طالبات کا میرٹ پر اعلیٰ تعلیم کے لیے انتخاب ان کے روشن تعلیمی مستقبل کی ضمانت ہے۔ اسکالرشپ کے لیے منتخب ہونے والے بیشتر طلبہ و طالبات کا تعلق غریب اور متوسط طبقے سے ہے اور ان کے لیے ملک کی اعلیٰ جامعات میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ایک اہم پیش رفت ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ملک کی اعلیٰ جامعات میں بلوچستان کے نوجوانوں کا مختلف شعبوں میں تعلیم حاصل کرنا باعثِ مسرت ہے۔

حکومت پنجاب کی جانب سے بلوچستان کے طلبہ کو جامعات میں داخلے کے ساتھ ٹیوشن اور ہاسٹل فیس کی مد میں معاونت فراہم کرنا قابلِ تحسین اقدام ہے جس پر اہلیانِ بلوچستان کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔ میر سرفراز بگٹی نے طلبہ و طالبات پر زور دیا کہ وہ دیگر صوبوں کی جامعات میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے نظم و ضبط، محنت اور میرٹ کو اپنا شعار بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان جہاں بھی جائیں، اپنی صلاحیتوں اور مثبت کردار سے پاکستانیت کا پرچار کریں کیونکہ وہ بلوچستان اور پاکستان کے سفیر ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ طلبہ کسی بھی ریاست مخالف تنظیم یا منفی پروپیگنڈے کا حصہ نہ بنیں اور حصولِ تعلیم کے ذریعے اپنے والدین کی توقعات پر پورا اتریں۔ انہوں نے کہا کہ تصور اور حقائق میں فرق ہوتا ہے، ریاست مخالف عناصر غیر متوازن ترقی کے نام پر نوجوانوں کی منفی ذہن سازی کی کوشش کرتے ہیں، اس لیے طلبہ کو ایسے عناصر سے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ہمیشہ قائم رہنے کے لیے بنا ہے اور تاقیامت قائم رہے گا ۔ اس موقع پر چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن صالح بلوچ بھی موجود تھے۔