ایشیائی ترقیاتی بینک کاتوانائی و ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کیلئے 70ارب ڈالرکااعلان

توانائی اور ڈیجیٹل رسائی خطے کے مستقبل کا تعین کریں گی،صدر ماساتو کاندا کی گفتگو

پیر 4 مئی 2026 19:00

منیلا(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 04 مئی2026ء) ایشیائی ترقیاتی بینک نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2035 تک توانائی اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے نئے منصوبوں کے لیے 70 ارب ڈالر کی معاونت فراہم کرے گا، جس کا مقصد بجلی کے نظام کو آپس میں منسلک کرنا، سرحد پار بجلی کی تجارت کو فروغ دینا اور ایشیا و بحرالکاہل میں براڈبینڈ تک رسائی کو بہتر بنانا ہے۔

اماراتی نیوز ایجنسی کے مطابق بینک کے صدر ماساتو کاندا نے کہا کہ توانائی اور ڈیجیٹل رسائی خطے کے مستقبل کا تعین کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات ایشیا اور بحرالکاہل کو ترقی، مسابقت اور باہمی رابطے کے لیے درکار نظام فراہم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سرحدوں کے پار بجلی کے نظام اور ڈیجیٹل نیٹ ورکس کو جوڑ کر لاگت کم کی جا سکتی ہے، مواقع بڑھائے جا سکتے ہیں اور کروڑوں افراد کو قابلِ اعتماد بجلی اور ڈیجیٹل سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں۔

(جاری ہے)

پین ایشیا پاور گرڈ اقدام کے تحت قومی اور ذیلی علاقائی بجلی کے نظاموں کو منسلک کیا جائے گا تاکہ قابلِ تجدید توانائی سرحدوں کے پار منتقل ہو سکے، جبکہ ایشیا پیسیفک ڈیجیٹل ہائی وے کے ذریعے خطے میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے خلا کو کم کیا جائے گا اور مصنوعی ذہانت سے متعلق ترقی کے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔اس اقدام کے تحت 2035 تک 50 ارب ڈالر سرحد پار بجلی کے انفراسٹرکچر کے لیے مختص کیے جائیں گے۔

بینک حکومتوں، متعلقہ اداروں، نجی شعبے اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ مل کر یہ سرمایہ کاری یقینی بنائے گا۔2035 تک تقریبا 20 گیگاواٹ قابلِ تجدید توانائی کو سرحدوں کے پار مربوط کیا جائے گا، 22 ہزار سرکٹ کلومیٹر ٹرانسمیشن لائنز کو جوڑا جائے گا، 20 کروڑ افراد کو توانائی تک بہتر رسائی دی جائے گی، 8 لاکھ 40 ہزار ملازمتیں پیدا ہوں گی اور پاور سیکٹر کے اخراج میں 15 فیصد کمی لائی جائے گی۔

بینک اس منصوبے کا تقریبا نصف سرمایہ خود فراہم کرے گا جبکہ باقی رقم مشترکہ مالی معاونت کے ذریعے حاصل کی جائے گی۔ اس کے علاوہ 10 ملین ڈالر تک کی تکنیکی معاونت بھی فراہم کی جائے گی تاکہ ضوابط میں ہم آہنگی، مشترکہ تکنیکی معیار اور فزیبلٹی سٹڈیز جیسے امور میں پیش رفت کی جا سکے۔یہ اقدام ممالک کے درمیان محدود روابط سے ہٹ کر علاقائی سطح پر بجلی کی تجارت کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے اور یہ مختلف علاقائی تعاون پروگراموں پر بھی مبنی ہے۔

ایشیا پیسیفک ڈیجیٹل ہائی وے کے تحت 2035 تک 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی تاکہ ڈیجیٹل کوریڈورز، ڈیٹا انفراسٹرکچر اور مصنوعی ذہانت کے لیے موزوں معیشتوں کو فروغ دیا جا سکے۔اس میں فائبر نیٹ ورکس، سیٹلائٹ روابط اور علاقائی ڈیٹا سینٹرز شامل ہوں گے، جبکہ سائبر سکیورٹی اور مہارتوں کے فروغ کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔2035 تک اس منصوبے کے ذریعے 20 کروڑ افراد کو پہلی بار براڈبینڈ تک رسائی دی جائے گی جبکہ مزید 45 کروڑ افراد کو بہتر اور تیز رفتار ڈیجیٹل سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

اس سے دور دراز علاقوں میں لاگت میں تقریبا 40 فیصد کمی اور 40 لاکھ ملازمتوں کی تخلیق متوقع ہے۔بینک اس منصوبے میں سے 15 ارب ڈالر خود فراہم کرے گا جبکہ باقی 5 ارب ڈالر مشترکہ مالی معاونت سے حاصل کیے جائیں گے۔ اس اقدام کی حمایت کے لیے سیئول میں مصنوعی ذہانت کے فروغ کا ایک مرکز قائم کیا جائے گا جس کے لیے جمہوریہ کوریا کی حکومت 20 ملین ڈالر فراہم کرے گی۔یہ مرکز ذمہ دار اور جامع مصنوعی ذہانت کے فروغ اور 2035 تک تقریبا 30 لاکھ افراد کو تربیت دینے میں معاون ثابت ہوگا۔

متعلقہ عنوان :