سی ڈی اے کی زون فور میں غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں شاہین ٹاؤن اور اسلام آباد گرین پیراڈائز کے خلاف قانونی کارروائی

پیر 4 مئی 2026 21:20

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 04 مئی2026ء) سی ڈی اے کی جانب سے اسلام آباد کے زون فور میں قائم غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں عمل میں لائی گئیں۔ غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں جن میں شاہین ٹاؤن لہتراڑ روڈ اور اسلام آباد گرین پیراڈئز کے تمام انتظامی دفاتر بشمول سائٹ آفس اور پبلک ڈیلنگ آفس شامل ہیں، کو سربمہر کیا جاچکا ہے۔

پہلے مرحلے میں ان سوسائٹیوں کے انتظامی اور تشہیر کیلئے بنائے جانے والے دفاتر کو سربمہر کیا جارہا ہے۔ مذکورہ غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے خلاف کارروائی کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس 1960 کی دفعات 49-سی، 46 اور 46-بی، آئی سی ٹی زوننگ ریگولیشنز 1992 کی شق 5(1) اور (3)، اور آئی سی ٹی زوننگ ریگولیشنز 1992 کے تحت بنائے گئے "پرائیویٹ ہاؤسنگ سکیموں کیلئے منصوبہ بندی و ترقی کے ضوابط 2023" کی شق 40 تا 42 دفعات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پلاٹوں کی غیر قانونی خرید وفروخت کرنے پر عمل میں لائی گئی ہے۔

(جاری ہے)

اس ضمن میں کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی انتظامیہ کے متعلقہ شعبہ جات کی جانب سے بارہا مرتبہ بذریعہ اخبار اشتہارات عوام الناس کو خبردار کر چکی ہے کہ وہ غیر قانونی ہاؤسنگ سکمیوں میں پلاٹ خریدنے سے اجتناب کریں اور سرمایہ کاری کرنے سے پہلے اس امر کی تسلی کرلیں کہ سوسائٹی کے سپانسر نے مطلوبہ شرائط پورا کرنے کے بعد سی ڈی اے سے این او سی حاصل کیا ہے۔

اس ضمن میں شہری ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے تازہ ترین سٹیٹس اور منظور شدہ لے آؤٹ پلانز کی تفصیل کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی ویب سائٹ www.cda.gov.pk سے بھی چیک کرسکتے ہیں۔سی ڈی اے انتظامیہ نے غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کے خلاف سخت اقدامات اٹھاتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ایڈوائزری جاری کی ہیں کہ وہ ان سکیموں میں بجلی اور گیس کے کنکشن فراہم نہ کریں۔

علاوہ ازیں غیر قانونی اسکیموں میں زمین اور گھروں کی خرید و فروخت پر فوری پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس ضمن میں سی ڈی اے انتظامیہ نے بھی عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ وہ صرف سی ڈی اے سے منظور شدہ ہاؤسنگ سکیموں میں سرمایہ کاری کریں۔ اسلام آباد کی تمام منظور شدہ اور غیر منظور ہاؤسنگ سوسائٹیز کی لسٹ سی ڈی اے کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی تاکہ عوام الناس دھوکہ دہی سے نہ صرف بچ سکیں بلکہ انہیں مطلوبہ ہاؤسنگ سوسائٹی کی قانونی حیثیت کے بارے میں بھی آگاہی ہوسکے۔ اس ضمن میں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو بھی غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کی تشہیر سے روکنے کی ہدایت کی گئی ہے۔