بحری جہاز میں ہنٹا وائرس سے مزید دو افراد متاثر، 150 تاحال محصور

منگل 5 مئی 2026 10:02

ایمسٹرڈیم (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 05 مئی2026ء) جنوبی بحر اوقیانوس میں سفر کرنے والے ایک کروز جہاز میں پھوٹنے والی ہنٹا وائرس وبا سے تین افراد کی ہلاکت کے بعد دو مزید مسافروں میں اس وائرس کی علامات ظاہر ہوئی ہیں جبکہ 150 کے قریب افراد اب بھی بحری جہاز میں پھنسے ہوئے ہیں۔اردو نیوز کے مطابق طبی ماہرین مغربی افریقہ کے قریب موجود جہاز سے متاثرہ افراد کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بحری جہازمیں موجود زیادہ تر لوگ برطانوی، امریکی اور ہسپانوی ہیں۔نیدرلینڈز کا نیشنل انسٹیٹیوٹ فار پبلک ہیلتھ اینڈ دی انوائرمنٹ جو وبا کو کنٹرول کرنے میں مدد دے رہا ہے ، کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ جن دو افراد میں علامات ظاہر ہوئیں ان میں سے ایک میں ہنٹا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسی بحری جہاز پر سوار ہلاک ہونے والی ڈچ خاتون کا ٹیسٹ بھی پازیٹیو آیا تھا۔

طبی اداروں کا کہنا ہے مرنے والے دوسرے دو افراد کے بارے میں یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ان کی موت بھی اسی وائرس کی وجہ سے ہوئی۔ہنٹا وائرس سے سانس لینے میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں اور یہ جان لیوا بھی ہو سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ہنٹا وائرس کا تعلق چوہوں سے ہے اور وہیں پر پھیلتا ہے جہاں چوہے رہتے ہوں اور ان کی گندگی کے ذرات خشک ہونے پر ہوا میں شامل ہو جائے تو سانس کے ساتھ جسم کے اندر جا سکتے ہیں۔

تاہم ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ وائرس انسانوں کے درمیان آسانی سے نہیں پھیلتا۔وائرس کا شکار ہونے کے بعد علاج کے لیے کوئی خاص دوائیں موجود نہیں اس لیے توجہ ایسی چیزوں پر دی جاتی ہے جو بیماری کو بڑھنے سے روک سکیں جن میں مریضوں کو وینٹی لیٹر پر منتقل کرنا بھی شامل ہے۔عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اس وائرس سے وسیع پیمانے پر خطرات کم ہیں اور اس پر بہت زیادہ گھبرانے یا سفری پابندیاں لگانے کی ضرورت نہیں ہے، تاہم جزیرہ نما ملک کیپ وردے کے حکام کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے احتیاط کے طور پر ڈچ جہاز ایم وی ہانڈیس کو بندرگاہ تک جانے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ابھی تک بحری جہاز پر سوار مسافروں میں سے سات میں ہنٹا وائرس کے کیس سامنے آ چکے ہیں جن میں سے دو کی لیبارٹری سے باقاعدہ تصدیق ہو چکی ہے جبکہ پانچ کے بارے میں ابھی تک صورت حال واضح نہیں ہے۔ نیدرلینڈز کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ بحری جہازتین ہفتے قبل ارجنٹائن سے روانہ ہوا تھا جس میں 150مسافر سوار ہیں اور اب تک اس کے تین مسافر ہلاک ہو چکے ہیں۔