مصنوعی ذہانت تیزی سے سائبر سکیورٹی کو تبدیل کر رہی ہے، ورلڈ اکنامک فورم

منگل 5 مئی 2026 10:38

جنیوا (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 05 مئی2026ء) ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف ) کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت تیزی سے سائبر سکیورٹی کے شعبے کو تبدیل کر رہی ہے اور اس میدان میں سب سے بڑی تبدیلی کا سبب بن رہی ہے۔اماراتی نیوز ایجنسی وام کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تقریباً 94 فیصد سائبر رہنما مصنوعی ذہانت کو ایک فیصلہ کن قوت قرار دیتے ہیں جبکہ 77 فیصد ادارے پہلے ہی اپنی سائبر کارروائیوں میں اس کا استعمال کر رہے ہیں۔

’’اے آئی اینڈ سائبر: ایمپاورنگ ڈیفینڈرز‘‘کے عنوان سے شائع ہونے والی اس رپورٹ، جو کے پی ایم جی کے اشتراک سے تیار کی گئی، میں لاگت میں کمی، ردعمل کی رفتار اور نظام کی مضبوطی میں واضح بہتری کو اجاگر کیا گیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جہاں خطرناک عناصر مصنوعی ذہانت کو دھوکہ دہی کو خودکار بنانے، میل ویئر تیار کرنے اور مشینی رفتار سے حملے بڑھانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں، وہیں سٹریٹجک انداز میں مصنوعی ذہانت اپنانے والے ادارے نمایاں فوائد حاصل کر رہے ہیں۔

(جاری ہے)

ایسے ادارے جو سکیورٹی میں وسیع پیمانے پر مصنوعی ذہانت استعمال کرتے ہیں، وہ ڈیٹا لیک کے اوسط اخراجات میں تقریباً 1.9 ملین ڈالر تک کمی اور حملوں کے دورانیے میں تقریباً 80 دن تک کمی لانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ورلڈ اکنامک فورم کے سینٹر فار سائبر سکیورٹی کے سربراہ اکشے جوشی نے کہاکہ مصنوعی ذہانت کے پاس یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ توازن کو دفاع کرنے والوں کے حق میں موڑ دے۔

وہ ادارے جو اسے ایک سٹریٹجک صلاحیت کے طور پر اپنائیں گے، نہ کہ صرف ایک علیحدہ ٹول کے طور پر، وہ بڑھتے ہوئے سائبر خطرات کو مضبوطی اور مسابقتی برتری میں بدلنے کی بہتر پوزیشن میں ہوں گے۔فورم کی 2025 کی اشاعت ’’آرٹیفیشل انٹیلیجنس اینڈ سائبر سکیورٹی: بیلنسنگ رسکس اینڈ ریوارڈز‘‘ کی بنیاد پر تیار کی گئی 2026 کی یہ رپورٹ اس بات پر توجہ دیتی ہے کہ ادارے عملی طور پر دفاع کے لیے مصنوعی ذہانت کو کیسے استعمال کر رہے ہیں۔

جیسے جیسے اداروں کے انٹرنیٹ سے منسلک اثاثے لاکھوں کی تعداد میں بڑھ رہے ہیں، سائبر خطرات کا حجم اور پیچیدگی بھی نمایاں طور پر بڑھ رہی ہے۔کے پی ایم جی کے گلوبل ہیڈ آف سائبر اینڈ ٹیک رسک لارینٹ گوبی نے کہاکہ حملہ آور پہلے سے کہیں زیادہ تیزی اور بڑے پیمانے پر سرگرم ہیں۔ یہ رپورٹ اداروں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ وہ بھی اسی رفتار سے آگے بڑھیں، اور سائبر دفاع کے لیے مصنوعی ذہانت کو ایک طاقت بڑھانے والے عنصر کے طور پر استعمال کریں۔

رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ سائبر سکیورٹی میں مصنوعی ذہانت کی اصل اہمیت انسانی مہارت کو بہتر بنانے، فیصلوں کو تیز کرنے اور نظام کو مضبوط بنانے میں ہے، نہ کہ صرف خودکاری تک محدود۔ اس کے موثر استعمال کے لیے واضح حکمت عملی، توسیع سے پہلے آزمودہ عملی مثالیں، اور ابتدا ہی سے مضبوط نگرانی اور انسانی کنٹرول ضروری ہیں۔یہ رپورٹ 20 حقیقی کیس سٹڈیز، انفرادی انٹرویوز اور ورکشاپس سے حاصل شدہ معلومات پر مبنی ہے، جو ورلڈ اکنامک فورم کے ’’سائبر فرنٹیئرز: اے آئی اینڈ سائبر‘‘ اقدام کے تحت منعقد ہوئیں، جن میں 15 صنعتوں سے تعلق رکھنے والے 84 اداروں کے 105 نمائندوں نے شرکت کی۔

جیسے جیسے سائبر خطرات مزید پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں، رپورٹ میں کاروباری اور حکومتی رہنماؤں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کو بنیادی سکیورٹی صلاحیت کے طور پر اپنائیں اور صرف ٹیکنالوجی ہی نہیں بلکہ مہارتوں، طریقہ کار اور گورننس میں بھی سرمایہ کاری کریں تاکہ مشینی رفتار سے دفاع ممکن بنایا جا سکے۔