ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف میرے موقف سے میری ازدواجی زندگی میں حقیقی تناؤ پیدا ہوا،براک اوباما کی تصدیق

بدھ 6 مئی 2026 10:17

واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 06 مئی2026ء) سابق امریکی صدر براک اوباما نے تصدیق کی ہے کہ وائٹ ہاؤس میں اپنے جانشین ڈونلڈ ٹرمپ پر مسلسل تنقید کرنے کے ان کے فیصلے نے ان کی ازدواجی زندگی پر دباؤ ڈالااور ان کے اور ان کی اہلیہ مشیل اوباما کے درمیان حقیقی تناؤ موجود ہے۔ العربیہ اردو کے مطابق براک اوباما نے کہا کہ ان کی اہلیہ اس بات پر مایوسی محسوس کرتی ہیں کہ وہ عہدہ چھوڑنے کے باوجود ڈیموکریٹک پارٹی کی سیاسی مہمات میں مسلسل مصروف رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ گھر کے اندر اختلافات میں سے ایک بن گیا ہے۔ان کے یہ بیانات دی نیو یارکر میگزین کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران سامنے آئے ہیں جو ان کی 33 سالہ ازدواجی زندگی میں مشکلات سے متعلق میڈیا رپورٹس کے چند ماہ بعد منظر عام پر آئے ہیں۔

(جاری ہے)

اس جوڑے کی دو بیٹیاں مالیا (27 سال) اور ساشا (24 سال) ہیں۔اوباما نے اس سے قبل ایک پوڈ کاسٹ میں ذکر کیا تھا کہ وائٹ ہاؤس سے نکلنے کے بعد انہوں نے اپنی اہلیہ کے ساتھ تعلقات میں ایک کمی محسوس کی تھی اور انہوں نے ان کے ساتھ زیادہ وقت گزار کر اس کی تلافی کرنے کی کوشش کی تھی۔

64 سالہ سابق امریکی صدر نے وضاحت کی کہ ان کی مسلسل سیاسی سرگرمیاں ان کی اہلیہ کے لیے مستقل پریشانی کا باعث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے شوہر کو سیاسی مداخلت کم کرتے ہوئے دیکھنا چاہتی ہیں تاکہ وہ ان کے ساتھ زیادہ وقت گزاریں اور اپنی بقیہ زندگی سے لطف اندوز ہو سکیں۔انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ خاندان کے اندر حقیقی تناؤ پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ اس بات کو سمجھتے ہیں کہ لوگ ان کی مستقل سیاسی موجودگی سے اکتاہٹ کیوں محسوس کرتے ہیں کیونکہ بہت سے لوگ ان کے کردار کا موازنہ ان کاموں سے نہیں کرتے جو سابق صدور نے عہدہ چھوڑنے کے بعد کیے۔

براک اوباما نے اس بات کی نشاندہی کی کہ امریکا کا کوئی بھی سابق صدر اپنی مدت ختم ہونے کے بعد چار انتخابی ادوار تک اس بڑے پیمانے پر سیاسی طور پر پارٹی کی نمائندگی کرتا ہوا نہیں رہا۔ گزشتہ برسوں کے دوران براک اوباما ٹرمپ کے نمایاں ترین ناقد بن کر ابھرے ہیں اور حال ہی میں انہوں نے ریاست ورجینیا میں انتخابی حلقہ بندیوں کی دوبارہ تشکیل کے لیے ڈیموکریٹس کی کوششوں کی حمایت کی جو ایک ایسا قدم ہے جس سے امریکی ایوان نمائندگان میں پارٹی کو چار اضافی نشستیں مل سکتی ہیں۔

تاہم اس کردار نے انہیں ٹرمپ کے حملوں کا مستقل نشانہ بنائے رکھا ہے جو بار بار انہیں باراک حسین اوباما کے نام سے پکارتے ہیں۔ رواں سال کے آغاز میں ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کر کے تنقید کی لہر دوڑا دی تھی جسے نسلی بنیادوں پر مبنی قرار دیا گیا جس میں اوباما خاندان کو بندروں کی شکل میں دکھایا گیا تھا جبکہ انہوں نے ایک ایسی جعلی ویڈیو بھی شیئر کی تھی جس میں اوباما کو گرفتار ہوتے دکھایا گیا تھا۔

اوباما نے انٹرویو میں کہا کہ سیاسی گفتگو کا معیار بدل گیا ہے۔ انہوں نےکہا کہ اب ان لوگوں میں شرم کا احساس باقی نہیں رہا جو پہلے اس منصب سے وابستہ شائستگی اور احترام برقرار رکھنے پر یقین رکھتے تھے۔اس کے باوجود انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ اپنی میڈیا موجودگی کو متوازن رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ وہ ایک مستقل سیاسی مبصر بن کر نہ رہ جائیں۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ موجودہ میڈیا کا ماحول اتنا پیچیدہ ہے کہ بہت سے لوگ پس پردہ ان کی سرگرمیوں کی وسعت کو نہیں سمجھتے جس کی وجہ سے کچھ لوگ سوال کرتے ہیں کہ وہ روزانہ سیاسی منظر نامے پر کیوں نظر نہیں آتے۔