عمر عبداللہ کی جموں وکشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی میں تاخیر پر بی جے پی حکومت پر کڑی تنقید

بدھ 6 مئی 2026 21:22

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 06 مئی2026ء) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیرکے وزیر اعلی عمر عبداللہ نے بی جے پی کی بھارتی حکومت کی جانب سے جموں وکشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی میں تاخیر پر سخت مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ کیا کشمیریوں کوہندوتوا پارٹی کا وزیر اعلیٰ منتخب نہ کرنے کی سزا دی جا رہی ہے؟ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ایک میڈیا انٹرویو میں عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ انتہائی ناانصافی ہے کہ بی جے پی نے ریاستی حیثیت کی بحالی کا کشمیری عوام سے کیاگیا اپنا وعدہ ابھی تک پورا نہیں کیا ہے ۔

انہوں نے کہاکہ اس سلسلے میں مسلسل تاخیر دھوکہ اور عہد شکنی کے مترادف ہے۔انہوں نے کہاکہ کیا کشمیری عوام کو مقبوضہ علاقے میں بی جے پی کو ووٹ نہ دینے کی سزا دی جارہی ہے؟ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کو کہاجاتاہے کہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کو مناسب وقت پر بحال کیا جائے گا، لیکن کوئی یہ نہیں بتاتا کہ وہ مناسب وقت کب آئے گا ۔

(جاری ہے)

عمر عبداللہ نے واضح کیاکہ ہم اپنے مطالبہ کو دہراتے رہیں گے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں حلقہ بندیاں، انتخابات اور اسکے بعد ریاستی حیثیت کی بحالی کا وعدہ کیاتھا تاہم انکی حکومت کو قائم ہوئے ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ ہو چکا ہے اور ابھی تک ریاستی حیثیت کی بحالی کا وعدہ پورا نہیں کیاگیا۔عمر عبداللہ نے انٹرویو میں 2023 کے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ بھی دیا جس میں کشمیر کی ریاستی حیثیت کی جلد از جلد بحالی پر زوردیاگیاتھا ۔