سپریم کورٹ نے منشیات کیس میں عمر قید پانے والے 2 ملزمان بری کردیا

جمعرات 7 مئی 2026 17:46

سپریم کورٹ نے منشیات کیس میں عمر قید پانے والے 2 ملزمان بری کردیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 07 مئی2026ء) سپریم کورٹ نے منشیات کیس میں عمر قید پانے والے 2 ملزمان بری کر تے ہوئے جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اپنے تحریری فیصلہ میں کہاہے کہ مدعی پولیس افسر کا خود ہی تفتیشی افسر بننا انصاف کے اصولوں کے خلاف قرار دے دیا۔ منشیات کے مقدمات میں مدعی اور آئی او کے دوہرے کردار کی سختی سے حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے، مدعی ہمیشہ سزا دلوانے کی جانب مائل ہوتا ہے، غیر جانب دار تفتیش ممکن نہیں رہتی۔

سپریم کورٹ نے کہا اپنی ہی ایف آئی آر کی کھلے ذہن سے تفتیش تقریباً ناممکن ہے، فیصلے کے مطابق مدعی بطور آئی او صرف اپنے الزام ثابت کرنے والا ثبوت تلاش کر سکتا ہے، سپریم کورٹ نے کہا ایسی تفتیش انصاف کی فراہمی کے لیے نقصان دہ سمجھی جاتی ہے، مدعی کو آئی او مقرر کرنے کی ٹھوس وجوہ دینا لازمی ہیں، بہ صورت دیگر استغاثہ کا مقدمہ کمزور ہو جاتا ہے۔

(جاری ہے)

سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ تفتیش شفاف، غیر جانب دار اور قانون کے مطابق ہونا آئینی تقاضا ہے، آرٹیکل 10 اے کے تحت منصفانہ ٹرائل ہر ملزم کا بنیادی حق ہے۔ جب کہ کیس میں سپریم کورٹ نے تفتیشی عمل، شواہد اور فرانزک طریقہ کار پر سنگین سوالات اٹھائے۔فیصلے کے مطابق عدالت میں پیش پارسلز پر ریکوری گواہ کے دستخط واضح نہ تھے، سپریم کورٹ کے مطابق پراسیکیوشن یہ ثابت نہ کر سکی کہ عدالت میں پیش مواد وہی تھا جو برآمد ہوا، کیس پراپرٹی کی محفوظ تحویل اور لیبارٹری منتقلی مشکوک قرار دی گئی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ معمولی شک کا فائدہ بھی ملزم کو دینا فوجداری قانون کا مسلمہ اصول ہے، نچلی عدالتوں نے شواہد کا درست جائزہ نہیں لیا۔سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دے دیئے۔