وکالت نامہ موکل کی وفات کے ساتھ ختم، وکیل پر فوری اطلاع دینا لازم ہے ، سپریم کورٹ

جمعرات 7 مئی 2026 18:11

وکالت نامہ موکل کی وفات کے ساتھ ختم، وکیل پر فوری اطلاع دینا لازم ہے ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 07 مئی2026ء) سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ کسی بھی موکل کی وفات کے ساتھ ہی اس کا وکالت نامہ خود بخود ختم ہو جاتا ہے اور ایسے میں وکیل پر یہ لازمی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ فوری طور پر عدالت کو اس وفات سے آگاہ کرے تاکہ قانونی ورثاء کو مقدمے میں شامل کر کے کارروائی کو قانونی طریقہ کار کے مطابق جاری رکھا جا سکے ۔

سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس محمد شفیع صدیقی پر مشتمل تین رکنی بینچ نے یہ آبزرویشن سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیلوں کی سماعت کے دوران جاری کی۔عدالت کو بتایا گیا کہ ایک فریق کی وفات 4 نومبر 2024ء کو ہو چکی تھی تاہم اس کی اطلاع نہ تو عدالت کو دی گئی اور نہ ہی قانونی ورثاء کو فریق بنایا گیا جس کے باوجود مقدمے کی کارروائی جاری رہی اور بعد ازاں فیصلہ بھی صادر کر دیا گیا۔

(جاری ہے)

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ وکیل اور موکل کا تعلق ایک پرنسپل ایجنٹ کے اصول پر قائم ہوتا ہے جو موکل کی وفات کے ساتھ ہی ختم ہو جاتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ایسے میں وکیل کے لیے یہ اخلاقی اور قانونی فریضہ ہے کہ وہ فوری طور پر عدالت کو آگاہ کرے تاکہ قانونی ورثاء کو موقع دیا جا سکے کہ وہ مقدمے میں شامل ہو کر اپنے حقوق کا دفاع کر سکیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ وفات کی اطلاع چھپانا نہ صرف عدالتی عمل کی شفافیت کو متاثر کرتا ہے بلکہ یہ انصاف کے اصولوں کے بھی منافی ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ اگر وکیل کی جانب سے جان بوجھ کر یا غفلت کے باعث وفات کی اطلاع نہ دی جائے تو یہ معاملہ بار کونسل کو پیشہ ورانہ بدعنوانی کی کارروائی کے لیے بھیجا جا سکتا ہے۔عدالت نے مزید کہا کہ قانونی نظام میں یہ بنیادی اصول ہے کہ اگر حق دعویٰ برقرار رہے تو مقدمہ ورثاء کے ذریعے جاری رہتا ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ انہیں بروقت فریق بنایا جائے ۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ عدالتی کارروائی میں ورثاء کی شمولیت محض ایک رسمی کارروائی نہیں بلکہ منصفانہ ٹرائل کے بنیادی تقاضوں میں شامل ہے تاکہ حتمی فیصلہ تمام متعلقہ فریقین کی موجودگی اور موقف کے ساتھ جاری کیا جا سکے۔