جامعہ کشمیر،معرکہ حق کی یاد میں شاندار تقریب کا انعقاد

جمعرات 7 مئی 2026 22:41

مظفرآباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 07 مئی2026ء) یونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیرمیں آپریشن بنیان المرصوص (معرکہ حق) کا ایک سال مکمل ہونے پر ایک پُروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔تقریب میں ممتاز دانشوروں، یونیورسٹی فیکلٹی ممبران، انتظامی افسران، طلبہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔

اس موقع پر شرکاء نے وطنِ عزیز کے دفاع میں مسلح افواج، خصوصاً پاک فضائیہ اور زمینی دستوں کی جرات، پیشہ ورانہ مہارت اور شاندار خدمات کو بھرپور انداز میں سراہا۔تقریب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر جمال خٹک، سابق چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر جسٹس ریٹائرڈ چوہدری محمدابراہیم ضیاء، ڈاکٹر طلت شبیر ڈائریکٹر پاک چین انسٹیٹیوٹ اسلام آباد، سمیعہ ساجد چیئرپرسن کشمیر ویمن الرٹ فورم آزاد کشمیر، ایڈووکیٹ پرویز شاہ جنرل سیکرٹری کل جماعتی حریت کانفرنس ،ڈاکٹر ریحانہ کوثر ڈائریکٹر ادارہ امور طلبہ سمیت دیگرنے خطاب کیا۔

(جاری ہے)

مقررین نے اپنے خطابات میں قومی خودمختاری، اتحاد، استقامت اور پاکستانی قوم کے لازوال جذبے کو موضوع بنایا۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کی عظیم قربانیاں قوم کے لیے مشعلِ راہ ہیں اور ان کی بدولت ملک کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہے۔ مقررین نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، جرات اور دفاعی کردار کو شاندار الفاظ میں سراہتے ہوئے کہا کہ افواجِ پاکستان نے ہر دور میں ملکی سرحدوں کے دفاع اور دشمن کی جارحیت کے مؤثر جواب میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر جمال خٹک نے اپنے خطاب میں معاشرتی ہم آہنگی، نظم و ضبط اور باہمی احترام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ طاقت اتحاد اور مشترکہ اقدار کو اپنانے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اختلافات کے بجائے یکجہتی کو فروغ دینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک مضبوط اور باصلاحیت ملک ہے جو اپنی سرحدوں کے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

سابق چیف جسٹس، جسٹس (ر) چوہدری ابراہیم ضیاء نے پاکستان کی تاریخی جدوجہد پر روشنی ڈالتے ہوئے دو قومی نظریے کی اہمیت اور شہداء کی لازوال قربانیوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ قوموں کی ترقی کا انحصار اتحاد اوران کے پختہ عزم پرمنحصر ہوتا ہے۔ڈاکٹر طلعت شبیر نے طاقت اور خودمختاری کے باہمی تعلق پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پائیدار اسٹریٹجک طاقت کا انحصار معاشی استحکام اور مشکلات کے دوران قومی لچک پر ہے۔

انہوں نے مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کو خطے میں پائیدار امن کے لیے ناگزیر قرار دیا۔سمیعہ ساجدنے نوجوانوں کے کردار کو قوم سازی میں کلیدی قرار دیتے ہوئے اتحاد، یکجہتی اور ذمہ دارانہ کردار کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ امن کا داعی رہا ہے لیکن قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ایڈووکیٹ پرویز شاہ نے معصوم جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ردعمل ہمیشہ ذمہ دارانہ اور جائز رہا ہے۔

انہوں نے قومی خودمختاری کے تحفظ اور نوجوان نسل کے اعتماد کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔تقریب کے دوران طلبہ نے ملی نغمے پیش کیے جنہوں نے ماحول کو حب الوطنی کے جذبے سے بھر دیا۔ شرکاء نے طلبہ کی پرفارمنس کو بے حد سراہا۔بعد ازاں طلبہ اور اساتذہ نے ایک ریلی بھی نکالی جس میں مسلح افواج سے اظہارِ یکجہتی کیا گیا اور ملکی سلامتی، استحکام اور قومی یکجہتی کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔تقریب کا اختتام وطنِ عزیز پاکستان کی سلامتی، ترقی، خوشحالی اور قومی یکجہتی کیلئے دعا اور اس عزم کے ساتھ ہوا کہ قوم اتحاد، استقامت اور اجتماعی ذمہ داری کے اصولوں کو اپناتے ہوئے ایک مضبوط اور محفوظ پاکستان کیلئے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔