کیا صرف ملکی پیداوار میں اضافہ ہی ترقی کی علامت سمجھا جانا چاہیے؟

یو این جمعہ 8 مئی 2026 10:30

کیا صرف ملکی پیداوار میں اضافہ ہی ترقی کی علامت سمجھا جانا چاہیے؟

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 08 مئی 2026ء) دہائیوں سے مجموعی ملکی پیداوار(جی ڈی پی) کو ترقی کا پیمانہ سمجھا جاتا رہا ہے لیکن اب یہ احساس تیزی سے تقویت پانے لگا ہے کہ انسانی ترقی و فلاح کا اندازہ لگانے کے لیے یہ طریقہ کار کافی نہیں ہے۔

جن لوگوں کو نہ تو کاروباری خبروں میں کوئی دلچسپی ہے اور نہ ہی معاشیات سے زیادہ آگاہی رکھتے ہیں وہ بھی جی ڈی پی کے بارے میں سن چکے ہوں گے کیونکہ ذرائع ابلاغ میں عموماً اسی کو ترقی کے بنیادی اشاریے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

سادہ الفاظ میں جی ڈی پی اس مجموعی مالیت کو کہا جاتا ہے جو کوئی ملک پیدا کرتا اور فروخت کرتا ہے۔ لیکن ماہرین معاشیات برسوں سے جانتے ہیں کہ اس سے کسی ملک میں حقیقی ترقی کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔

(جاری ہے)

مثال کے طور پر، بچوں یا جسمانی معذور اہلخانہ کی نگہداشت جیسے بلا معاوضہ کاموں کو کسی مثبت معاشی سرگرمی کے طور پر شمار نہیں کیا جاتا۔

اسی طرح، عدم مساوات، ماحولیاتی آلودگی یا قدرتی وسائل کے بے دریغ استعمال کی قیمت بھی جی ڈی پی میں شامل نہیں ہوتی۔

یہ مسئلہ اس لیے سنگین ہے کہ اس سے پالیسی سازی کے معاملے میں غلط ترجیحات اور اہداف جنم لیتے ہیں۔ اگر حکومتیں صرف جی ڈی پی میں اضافے کے پیچھے بھاگیں وہ ان چیزوں کو نظر انداز کر دیں گی جو انسانوں اور زمین دونوں کے لیے زیادہ اہم ہیں۔

Adobestock/Fahad (generated with AI) عالمی معیشت کو پائیدار ترقی کے ساتھ جوڑنے سے لوگوں اور زمین کا فائدہ ہوگا۔

اہم چیزوں کی گنتی

ترقی کو مزید جامع انداز میں جانچنے کے پیمانوں کی کمی طویل عرصہ سے عالمی برادری کی توجہ کا مرکز رہی ہے۔ اسی سلسلے میں ایک سال قبل اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے 'جی ڈی پی سے آگے' کے موضوع پر ماہرین کا ایک اعلیٰ سطحی گروپ قائم کیا تھا۔

ایک سالہ مشاورت کے بعد اس گروپ نے آج 'اہم چیزوں کی گنتی' کے عنوان سے اپنی رپورٹ جاری کی ہے جسے انسانوں اور زمین کے لیے اہم رہنمائی قرار دیا گیا ہے۔

یہ اقوام متحدہ کی جانب سے سامنے لایا گیا پہلا عالمی خاکہ ہے جو جی ڈی پی کے ذریعے ترقی کی محدود پیمائش سے آگے بڑھنے کی راہ دکھاتا اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ پالیسی سازی اور فیصلوں کے لیے مزید جامع اشاریے استعمال کیے جانا چاہئیں۔

ترقیاتی ڈیش بورڈ

ماہرین کی یہ رپورٹ جی ڈی پی کو معاشی پیداوار ماپنے کے پیمانے کے طور پر رد نہیں کرتی تاہم اس میں یہ پیمانہ متعارف کرانے والے ماہر معاشیات اور نوبیل انعام یافتہ سائمن کزنٹس کے انتباہ کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جن کا کہنا تھا کہ محض جی ڈی پی کسی قوم کی فلاح و بہبود جانچنے کے لیے کافی نہیں۔

ماہرین نے کئی دہائیوں کی تحقیق اور مختلف قومی و بین الاقوامی تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے ایک لائحہ عمل پیش کیا ہے جس کے ذریعے حکومتیں اور عالمی ادارے ان شعبوں میں جی ڈی پی پر ضرورت سے زیادہ انحصار کم کر سکیں گے جہاں یہ مناسب پیمانہ نہیں ہوتا۔

اشاریوں پر مبنی ایک ڈیش بورڈ اس رپورٹ کا مرکزی نکتہ ہے جس میں بنیادی اصول (امن، انسانی حقوق اور کرہ ارض کا احترام) موجودہ فلاح و بہبود، مساوات و شمولیت، پائیداری و استحکام اور آئندہ کے اقدامات شامل ہیں۔

اگرچہ ماہرین کے اس گروپ نے جی ڈی پی کے متبادل کے طور پر ممالک کی درجہ بندی کرنے والا کوئی نیا پیمانہ تجویز نہیں کیا تاہم انہوں نے چند اہم اشاریوں پر مشتمل ایک محدود نظام وضع کرنے کی سفارش ضرور کی ہے تاکہ عوام اور پالیسی سازوں تک ترقی کی تصویر زیادہ واضح انداز میں پہنچائی جا سکے۔

World Bank/Mariana Ceratti برازیل کے شعبہ زراعت کا مجموعی ملک پیداوار میں 22 فیصد حصہ ہے۔

جی ڈی پی سے آگے

رپورٹ میں 'جی ڈی پی سے آگے' کے ایجنڈے کو ترقی دینے کے لیے متعدد تجاویز بھی دی گئی ہیں۔ ان میں قومی سطح پر ترقیاتی ڈیش بورڈ کا فوری نفاذ بھی شامل ہے جنہیں ہر ملک اپنی ترجیحات کے مطابق ترتیب دے گا اور انہیں پالیسی سازی کے عمل کا حصہ بنا سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے تحت ایک عالمی اطلاعاتی نظام قائم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے جس میں سالانہ پیش رفت رپورٹ شامل ہو گی اور اس نظام کو پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی )کی نگرانی سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔

رپورٹ میں یونیورسٹیوں، سول سوسائٹی، نجی شعبے اور میڈیا پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اس ضمن میں تحقیق، اطلاعات اور موثر عوامی مباحثوں کے ذریعے اپنا کردار ادا کریں تاکہ ترقی کے ان پیمانوں کو فروغ دیا جا سکے جو صرف جی ڈی پی تک محدود نہ ہوں۔