آبنائے ہرمز بحران سے کھاد کی قلت اور زرعی پیداوار میں کمی کا امکان
یو این
جمعہ 8 مئی 2026
10:30
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 08 مئی 2026ء) اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے باعث دنیا بھر میں کھاد کی قلت رواں سال کی دوسری ششماہی اور 2027 تک زرعی پیداوار میں کمی اور خوراک کی فراہمی پر سخت دباؤ کا سبب بنے گی۔
ادارے کے ڈائریکٹر جنرل کو ڈونگ یو نے 'ایم ای ڈی نائن پلس پلس' ممالک کے وزارتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ موجودہ بحران صرف جغرافیائی سیاست تک محدود نہیں بلکہ اب یہ دنیا بھر میں غذائی پیداوار، تجارت، زرعی وسائل اور خوراک تک رسائی کو بھی متاثر کر رہا ہے۔
انہوں نے آبنائے ہرمز کی تزویراتی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ معمول کے حالات میں اس راستے سے عالمی تجارت میں شامل تیل، مائع قدرتی گیس، سلفر اور کھاد کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔
(جاری ہے)
خوراک کی قلت کا خدشہ
ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ یہ صورتحال اس لیے بھی زیادہ تشویشناک ہے کیونکہ یہ دنیا کے بڑے زرعی خطوں میں بوائی اور کھاد کے استعمال کے اہم اوقات کے ساتھ پیش آ رہی ہے۔
چند ہفتوں کی تاخیر بھی کسانوں کو کھاد کا استعمال کم کرنے یا مکمل طور پر ترک کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ موجودہ اثرات صرف آج کی قیمتوں تک محدود نہیں بلکہ آنے والی فصلوں تک منتقل ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں رواں سال کے آخر اور 2027 میں خوراک کی فراہمی مزید محدود ہو سکتی ہے۔
افریقہ، ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے وہ ممالک جو درآمدی کھاد پر انحصار کرتے ہیں اس بحران سے بری طرح متاثر ہو سکتے ہیں۔
اس میں خاص طور پر وہ ممالک شامل ہیں جو پہلے ہی غذائی قلت، معاشی کمزوری یا موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔مشترکہ اقدامات اور ترجیحات
انہوں نے زور دیا کہ کوئی بھی ملک اس بحران سے محفوظ نہیں اور مشترکہ اقدامات کے لیے درج ذیل ترجیحات کا تذکرہ کیا:
- مختصر مدتی حل کے طور پر سپلائی چین کو فعال رکھنے، متبادل تجارتی راستوں کی سہولت فراہم کرنے، برآمدی پابندیوں سے گریز، کسانوں کو زرعی وسائل تک رسائی دینے اور انسانی امداد کی ترسیل کے نظام کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
- وسط مدتی طور پر علاقائی تعاون کو مضبوط بنایا جائے، کھاد اور توانائی کے متبادل ذرائع تلاش کیے جائیں اور کمزور معیشتوں کی خصوصی مدد ہونی چاہیے۔
- طویل المدتی حکمت عملی کے طور پر دنیا کو ایسے بنیادی ڈھانچے کی طرف جانا ہو گا جو محدود تجارتی راستوں اور معدنی ایندھن پر انحصار کو کم کرے۔ اس مقصد کے لیے پائیدار زراعت، قابل تجدید توانائی، جدید کھادوں اور بہتر ذخیرہ و ترسیلی نظام میں سرمایہ کاری ضروری ہے۔
کھاد اور غذائی تحفظ
انہوں نے غذائی تحفظ اور کھاد تک رسائی کے لیے'ایم ای ڈی نائن پلس پلس' اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ پلیٹ فارم 'ایف اے او' کے تزویراتی فریم ورک اور بہتری کے چار بہتر اہداف یعنی اچھی پیداوار، غذائیت، ماحول اور زندگی کے تصور سے ہم آہنگ ہے۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ادارہ عالمی زرعی و غذائی نظام کو درپیش مسائل سے نمٹنے کے لیے رکن ممالک کو تکنیکی تجزیہ، پالیسی معاونت اور بین الاقوامی تعاون کی سہولت فراہم کرتا رہے گا۔
غذائی تحفظ اور کھاد تک رسائی میں معاونت کے موضوع پر اس وزارتی اجلاس میں 'ایف اے او' کے بحیرہ روم خطے اور شراکت دار ممالک کے نمائندوں اور اداروں نے شرکت کی۔
مزید اہم خبریں
-
پنجاب میں نکاح رجسٹریشن اور میرج سرٹیفکیٹ کیلئے نئی سہولت کا آغاز
-
مجھے کبھی بھی یہ خوش فہمی نہیں رہی ہے میں سلمان خان کی طرح ہوں‘ رجب بٹ
-
وزیراعلی مریم نواز کی 7 کروڑ روپے واپسی کی درخواست سماعت کیلئے مقرر
-
میں خود کو کسی صورت سلمان خان کے برابر نہیں سمجھتا، رجب بٹ کی وضاحت
-
امریکا میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کا اعتراف، کانگریس میں قرارداد پیش
-
سی این این کے بانی ٹیڈ ٹرنر کی وفات پر یو این چیف کا اظہار افسوس
-
آبنائے ہرمز بحران سے کھاد کی قلت اور زرعی پیداوار میں کمی کا امکان
-
کروز شپ میں ہنٹا وائرس کووڈ جیسی وباء نہیں، عالمی ادارہ صحت
-
کیا صرف ملکی پیداوار میں اضافہ ہی ترقی کی علامت سمجھا جانا چاہیے؟
-
تیونس سول سوسائٹی اور صحافیوں پر جبر کا سلسلہ بند کرے، وولکر ترک
-
محفوظ و منظم مہاجرت پر پیش رفت تیز کرنے کی ضرورت پر زور
-
پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، ہم تو کہتے ہیں کہ سیاستدان اپنے معاملات بات چیت سے حل کریں
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.