محفوظ و منظم مہاجرت پر پیش رفت تیز کرنے کی ضرورت پر زور

یو این جمعہ 8 مئی 2026 10:30

محفوظ و منظم مہاجرت پر پیش رفت تیز کرنے کی ضرورت پر زور

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 08 مئی 2026ء) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ کوئی ملک مہاجرت کے مسئلے کو اکیلا نہیں سنبھال سکتا اور اس مقصد کے لیے عالمی برادری کو متحد ہو کر بہتر اقدامات کرنا ہوں گے۔

انہوں نے محفوظ، منظم اور باقاعدہ ہجرت سے متعلق عالمی معاہدے کے دوسرے بین الاقوامی جائزہ فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب رکن ممالک نے قانونی ہجرت کے راستے وسیع کرنے، افرادی قوت کے تحرک سے متعلق پروگرام مضبوط بنانے، لاپتہ ہونے والے مہاجرین کی تلاش اور امدادی کارروائیاں بہتر کرنے، اعداد و شمار کے نظام موثر بنانے اور مہاجرین کی محفوظ واپسی اور انہیں اپنے معاشروں میں دوبارہ انضمام میں مدد دینے کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں۔

Tweet URL

تاہم، گزشتہ چار برس میں ہی کم از کم دو لاکھ افراد انسانی سمگلنگ کا شکار ہوئے جن میں اکثریت خواتین اور لڑکیوں کی تھی جبکہ صرف دو برس میں 15 ہزار سے زیادہ لوگ ہجرت کے راستوں پر ہلاک یا لاپتا ہو گئے۔

(جاری ہے)

اب بھی پناہ کے خواہاں یا مہاجر خاندانوں اور بچوں کو حراست میں رکھا جاتا ہے جبکہ بے شمار مزدور استحصال کا شکار ہیں جنہیں قانونی تحفظ حاصل نہیں۔

مہاجرت سے متعلق رضاکارانہ و غیر پابند نوعیت کا یہ معاہدہ 2018 میں طے پایا تھا جس کا جائزہ لینے کے لیے جاری فورم جمعہ کو ختم ہو گا۔ فورم میں چار روزہ اجلاسوں، گول میز مباحثوں اور پالیسی مذاکرات کے دوران معاہدے پر عملدرآمد کے حوالے سے مسائل اور پائیدار ترقی کے اہداف کے تناظر میں ہجرت کے مسائل پر غور کیا جا رہا ہے۔

مہاجرت کا بہتر اور اجتماعی انتظام

فورم سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدر اینالینا بیئربوک نے بتایا کہ آسٹریلیا کے نصف سے زیادہ ڈاکٹروں، امریکہ کے 40 فیصد سے زیادہ نوبیل انعام یافتہ افراد اور بعض خلیجی ممالک میں افرادی قوت کی اکثریت میں ایک قدر مشترک ہے کہ یہ سبھی کسی اور ملک میں پیدا ہوئے تھے۔ یہ لوگ ان 30 کروڑ افراد میں شامل ہیں جنہیں تعلیم، روزگار، خاندان سے ملاپ یا بہتر مواقع کی تلاش کے لیے اپنا آبائی ملک چھوڑنا پڑا۔

مہاجرین نہ صرف ان معاشروں میں مثبت کردار ادا کرتے ہیں جہاں وہ رہتے ہیں بلکہ اپنے ہم وطن لوگوں کی مدد بھی کرتے ہیں۔ وہ ہر سال تقریباً ایک کھرب ڈالر کی ترسیلات زر اپنے آبائی ممالک کو بھیجتے ہیں جو سرکاری ترقیاتی امداد (او ڈی اے) اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) دونوں کے مجموعے سے بھی زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج ہجرت کو عموماً اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ توجہ غیر قانونی نقل مکانی، سرحدی دباؤ اور فلاحی نظام پر آنے والے بوجھ پر مرکوز رہتی ہے حالانکہ مہاجرت ہزاروں برس سے انسانی تاریخ کا حصہ رہی ہے۔

سوال یہ نہیں کہ ہجرت اچھی ہے یا بری، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اسے کس حد تک بہتر اور اجتماعی انداز میں منظم کیا جاتا ہے کیونکہ آج ہر ملک یا تو مہاجرین کا منبع، راستہ یا منزل ہے اور کئی ممالک یہ تینوں کردار ایک ساتھ ادا کر رہے ہیں۔

ہجرت کے وسیع تر فوائد

عالمی ادارہ مہاجرت (آئی او ایم) کی ڈائریکٹر جنرل ایمی پوپ نے کہا کہ اگر ہجرت کو موثر انداز میں منظم کیا جائے تو یہ نئے مواقع پیدا کرتی ہے، افرادی قوت کی کمی کو پورا کرتی ہے، معاشی ترقی کو فروغ دیتی ہے اور ترسیلات زر و مہارتوں کی منتقلی کے ذریعے ترقی کو مضبوط بناتی ہے۔

تاہم، ان کا کہنا تھا کہ یہ سب خود بخود نہیں ہو جاتا۔ اس کے لیے سرحدوں، شعبوں اور اداروں کے درمیان تعاون درکار ہوتا ہے تاکہ ایسے نظام وضع کیے جا سکیں جو منظم، منصفانہ اور قابل اعتماد ہوں۔

سیکرٹری جنرل کی 6 تجاویز

انتونیو گوتیرش نے عالمی معاہدے پر عملدرآمد کے لیے چھ نکات پیش کرتے ہوئے کہا:

  • ہجرت کا انتظام انسانی وقار، انسان دوستی اور بنیادی حقوق پر مبنی ہونا چاہیے۔

    اس کے لیے امتیازی سلوک ختم کرنا، قانونی عمل کی ضمانت دینا اور بچوں و خاندانوں کو حراست میں لینے کا سلسلہ بند کرنا ضروری ہے۔
  • ہجرت کو زیادہ محفوظ بنایا جائے جس میں مصیبت میں پھنسے مہاجرین کی مدد کے لیے بین الاقوامی تعاون مضبوط کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا بھی شامل ہو کہ ان کی واپسی کا عمل محفوظ اور باوقار ہو سکے۔
  • انسانی سمگلروں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے اور ان مجرم گروہوں سے ویسے ہی نمٹنا چاہیے جیسا کہ منشیات فروش گروہوں سے نمٹا جاتا ہے۔

    تمام ممالک کو مل کر ان جرائم پیشہ گروہوں کی مالی رسائی ختم کرنی چاہیے، قانونی اداروں میں سرحد پار تعاون بڑھانا چاہیے اور ہر سطح پر مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہیے۔
  • طلبہ، محنت کشوں، خاندانوں اور تحفظ کے متلاشی افراد کے لیے ہجرت کے قانونی راستوں کو حقیقتاً قابل عمل اور مؤثر بنایا جائے۔
  • مہاجرین کے آبائی ممالک میں تعلیم، مہارتوں کے فروغ اور باعزت روزگار کے مواقع میں سرمایہ کاری بڑھائی جانی چاہیے تاکہ لوگوں کے پاس بہتر مستقبل کے امکانات ہوں۔
  • رکن ممالک جنگوں سے جان بچا کر بھاگنے والے اور بہتر مواقع کی تلاش میں ہجرت پر مجبور ہونے والوں کے لیے مواقع میں اضافہ کریں۔