تیونس سول سوسائٹی اور صحافیوں پر جبر کا سلسلہ بند کرے، وولکر ترک

یو این جمعہ 8 مئی 2026 10:30

تیونس سول سوسائٹی اور صحافیوں پر جبر کا سلسلہ بند کرے، وولکر ترک

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 08 مئی 2026ء) اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے تیونس کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سول سوسائٹی کی تنظیموں، صحافیوں، حقوق کے کارکنوں، حزب اختلاف کے رہنماؤں، سیاسی کارکنوں اور عدلیہ کے خلاف کریک ڈاؤن بند کرے جن پر فوجداری مقدمات اور انتظامی رکاوٹوں کے ذریعے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ یہ دباؤ اور پابندیاں ملکی آئین اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے تحت محفوظ حقوق کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ ایسی پابندیوں میں انسانی حقوق اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کی معطلی بھی شامل ہے۔

Tweet URL

ایک روز قبل عدالت نے انتظامی قواعد کی مبینہ خلاف ورزی کے الزام میں وکلا کی عالمی تنظیم (اے ایس ایف) کو ایک ماہ کے لیے معطل کر دیا تھا۔

(جاری ہے)

اس سے چند روز قبل حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم 'تیونسی لیگ برائے انسانی حقوق' کو بھی ایسے ہی الزام میں معطلی کا سامنا کرنا پڑا۔ ملکی حکام ایسے اقدامات کے لیے عموماً مالیاتی اور آڈٹ سے متعلق بے ضابطگیوں کو جواز بناتے ہیں جس کے نتیجے میں ان تنظیموں کی انسانی حقوق کے تحفظ سے متعلق سرگرمیاں بند ہو جاتی ہیں۔

ہائی کمشنر کا کہنا ہے کہ بنیادی آزادیوں پر پابندیاں صرف غیر معمولی حالات میں، واضح قانون کے تحت اور کسی جائز مقصد کے لیے ضروری اور متناسب ہونی چاہئیں اور اس ضمن میں موثر نگرانی اور مناسب قانونی کارروائی لازم ہے۔

صحافیوں پر جبر

ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ تیونس کے حکام عدالت کی جانب سے دی گئی سزاؤں کو استعمال کرتے ہوئے تنظیم سازی کے حق کو محدود کر رہے ہیں اور اس معاملے میں قانونی جواز، ضرورت اور تناسب جیسے بنیادی اصولوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

ذرائع ابلاغ پر حکومتی پابندیاں بھی مزید سخت ہو رہی ہیں۔ 24 اپریل کو زاید الحینی نامی صحافی کو ایک ایسے مبہم قانون کے تحت گرفتار کیا گیا جس میں ٹیلی مواصلاتی رابطوں کے ذریعے دوسروں کو نقصان پہنچانا جرم قرار دیا گیا ہے۔

گزشتہ سال 28 صحافیوں کو گرفتار کیا گیا، ان پر مقدمات چلائے گئے اور انہیں اپنی پیشہ وارانہ سرگرمیوں سے جڑے معاملات پر قید کی سزائیں سنائی گئیں۔

وولکر ترک نے حکام سے ان تمام افراد کی فوری اور غیر مشروط رہائی اور اظہار و انجمن سازی کی آزادی پر تمام غیر منصفانہ پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی عدالت کا فعال نہ ہونا انسانی حقوق کے تحفظ کے نظام میں ایک بڑا ادارہ جاتی خلا ہے۔

انہوں نے زور دیا ہے کہ 2011 کے بعد تیونس میں جمہوری اور انسانی حقوق سے متعلق ہونے والی پیش رفت کو روکنے کے بجائے برقرار رکھا جانا چاہیے۔