کروز شپ میں ہنٹا وائرس کووڈ جیسی وباء نہیں، عالمی ادارہ صحت

یو این جمعہ 8 مئی 2026 10:30

کروز شپ میں ہنٹا وائرس کووڈ جیسی وباء نہیں، عالمی ادارہ صحت

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 08 مئی 2026ء) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بحر اوقیانوس میں مسافر بردار بحری جہاز پر ہنٹا وائرس کے مہلک پھیلاؤ سے متعلق تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے عالمگیر صحت عامہ کو زیادہ خطرہ لاحق نہیں اور اسے کووڈ جیسی ایک اور وباء کا آغاز نہ سمجھا جائے۔

اوقیانوس میں جزائر کینری کے قریب موجود نیدرلینڈز کے پرچم بردار جہاز ہونڈیئس پر ہنٹا وائرس سے متاثرہ تین افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ پانچ بیمار ہیں جن کا جنوبی افریقہ اور سوئزرلینڈ سمیت مختلف مقامات پر علاج جاری ہے۔

'ڈبلیو ایچ او' کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے جنیوا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اب تک سامنے آنے والے آٹھ مریضوں میں سے پانچ میں ہنٹاوائرس کی تصدیق ہو چکی ہے جو اس کی نایاب قسم 'اینڈیز' سے متاثر ہوئے ہیں۔

(جاری ہے)

بڑی وبا خارج از امکان

ہنٹا وائرس عموماً چوہوں اور کترنے والے دوسرےجانداروں میں پائے جاتے ہیں جو انسانوں میں ان جانداروں کے پیشاب، لعاب یا فضلے کے ذریعے منتقل ہوتے ہیں۔

اس وائرس کی اینڈیز قسم لاطینی امریکا کے بعض علاقوں میں پائی جاتی ہے جو محدود حد تک انسان سے انسان میں منتقل ہو سکتی ہے۔

'ڈبلیو ایچ او' کے مطابق، اس وائرس کی منتقلی کے لیے عموماً قریبی اور طویل رابطہ ضروری ہے اور خاص طور پر گھر کے افراد، شریک حیات یا طبی عملے کے ساتھ رابطے وائرس کی منتقلی کے اہم ذرائع ہو سکتے ہیں۔

ڈائریکٹر جنرل نے کہا ہے کہ موجودہ مرحلے پر عالمگیر صحت عامہ کو اس وائرس سے کچھ زیادہ خطرہ لاحق نہیں اور یہ صورتحال 2020 کی کورونا وبا سے بالکل مختلف ہے جس سے دنیا بھر میں لاکھوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

'ڈبلیو ایچ او' میں وباؤں اور عالمی طبی بحرانوں کے شعبے کی قائمقام ڈائریکٹرماریا وان کارخووے نے کہا ہے کہ ہنٹا وائرس طویل عرصہ سے موجود ہے جس کے بارے میں طبی ماہرین مکمل طور پر آگاہ ہیں اور یہ کورونا وائرس کی طرح نہیں پھیلتا۔

سوشل میڈیا پر غلط اطلاعات

'ڈبلیو ایچ او' میں ہنگامی طبی پروگرام کے ڈاکٹرعبدالرحمان محمود نے سوشل میڈیا پر پھیلنے والی غلط معلومات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بات کے کوئی شواہد موجود نہیں کہ بحری جہاز پر ہنٹا وائرس کا ظہور کسی نئی عالمی وبا کا آغاز ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ انفیکشن ایک محدود ماحول یعنی جہاز میں پھیلا جہاں مسافروں کے درمیان طویل اور قریبی رابطہ موجود تھا۔ اس کی مثال 2018 اور 2019 میں ارجنٹائن میں اینڈیز ہنٹا وائرس کا محدود پھیلاؤ ہے جو ایک سماجی تقریب میں بیمار شخص کے ذریعے منتقل ہوا تھا اور صرف چند افراد اس سے متاثر ہوئے تھے۔

ڈاکٹر محمود کے مطابق، متاثرہ افراد کے روابط تلاش کرنے، مریضوں کو الگ تھلگ رکھنے اور نگرانی جیسے اقدامات اس وائرس کے پھیلاؤ کو موثر انداز میں روک سکتے ہیں اس لیے بڑے پیمانے پر وبا پھیلنے کا امکان کم ہے۔

'ڈبلیو ایچ او' نے خبردار کیا ہے کہ اس بیماری کے مزید مریض بھی سامنے آنے کا امکان ہے کیونکہ اینڈیز ہنٹا وائرس کی علامات ظاہر ہونے میں چھ ہفتے تک لگ سکتے ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل کا کہنا ہے کہ وائرس نہ سیاست کو دیکھتے ہیں اور نہ ہی سرحدوں کی پروا کرتے ہیں اس لیے باہمی یکجہتی ہی ان کے خلاف مضبوط دفاع ہے۔