پنجاب سے گندم اور آٹے کی بین الصوبائی ترسیل میں رکاوٹیں، کے پی میں آٹا مہنگا ہوگیا

جمعہ 8 مئی 2026 17:19

پنجاب سے گندم اور آٹے کی بین الصوبائی ترسیل میں رکاوٹیں، کے پی میں ..
پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 08 مئی2026ء) پنجاب سے گندم اور آٹے کی بین الصوبائی ترسیل میں رکاوٹوں کے باعث خیبرپختونخوا میں آٹے کی قیمتوں میں ایک بار پھر سے اضافہ ہوگیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا کی فلور ملز انڈسٹری کا زیادہ تر انحصار پنجاب سے آنے والی گندم پر ہے، صوبے میں سالانہ 12 لاکھ میٹرک ٹن گندم پیدا ہوتی ہے جبکہ مجموعی ضرورت 52 لاکھ میٹرک ٹن ہے جس کے پیش نظر صوبے میں 40 لاکھ میٹرک ٹن کے شارٹ فال کو پنجاب سے گندم اور آٹا خرید کر پورا کیا جاتا ہے۔

فلور ملز ایسوسی ایشن کے مطابق پنجاب سے آٹے اور گندم کی سپلائی متاثر ہونے سے ملز کو مہنگے داموں گندم خریدنا پڑ رہی ہے جس سے مارکیٹ میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے ہورہا ہے۔پنجاب سے آٹے اور گندم کی ترسیل میں رکاوٹوں سے صوبے بھر میں آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2200 روپے سے بڑھ کر 2400 روپے ہوگئی ہے جس سے عام شہری اور کم آمدن والا طبقہ بری طرح متاثر ہورہا ہے۔

(جاری ہے)

خیبرپختونخوا حکومت نے 2 لاکھ 25 ہزار میٹرک ٹن گندم خریدنے کی منظوری دی ہے جس کے لیے فنڈز جاری کردیے ہیں جب کہ حکومت نے وفاق اور پنجاب حکومت کو خطوط لکھے ہیں جن میں گندم کی بین الصوبائی ترسیل پر پابندی کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے پنجاب سے گندم کی ترسیل پر عائد پابندی فوری طور پر ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔