ساتذہ کی حاضری کا معاملہ یونیورسٹی آف بلوچستان کے سینڈیکیٹ نے سال 2023 میں باقاعدہ طور پر حل کر دیا تھا، اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن جامعہ بلوچستان

جمعہ 8 مئی 2026 23:56

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 08 مئی2026ء) اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن جامعہ بلوچستان کوئٹہ کے ترجمان نے اپنے ایک سخت مذمتی بیان میں کہا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے بایومیٹرک حاضری کے حوالے سے زبردستی اور غیرقانونی احکامات نافذ کرنے کی کوشش قابل مذمت ہے۔ اس سلسلے میں ان اساتذہ کرام کو دھمکی آمیز خطوط جاری کرنا، جنہوں نے اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن کے اصولی مقف کی حمایت کی، انتہائی افسوسناک اور ناقابل قبول عمل ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ اساتذہ کی حاضری کا معاملہ یونیورسٹی آف بلوچستان کے سینڈیکیٹ نے سال 2023 میں باقاعدہ طور پر حل کر دیا تھا، جسے بعد ازاں سینیٹ آف یونیورسٹی آف بلوچستان نے بھی منظور اور توثیق کی۔ سینیٹ کی صدارت معزز چانسلر / گورنر بلوچستان کرتے ہیں، لہذا یہ فیصلہ یونیورسٹی کے اعلی ترین پالیسی ساز فورمز سے منظور شدہ ہے۔

(جاری ہے)

ترجمان نے واضح کیا کہ یونیورسٹی آف بلوچستان ایک خودمختار ادارہ ہے جو یونیورسٹی آف بلوچستان ایکٹ 2022 کے تحت چل رہا ہے۔

اس ایکٹ کے مطابق کسی بھی نئی پالیسی، انتظامی طریقہ کار یا نظام کو نافذ کرنے سے قبل اسے متعلقہ پالیسی ساز اداروں، جیسے سینڈیکیٹ، سینیٹ، اکیڈمک کونسل، اور فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی میں پیش کرنا اور وہاں سے منظوری لینا لازمی ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ یہاں تک کہ جب حکومت تنخواہوں یا الانسز میں اضافہ کرتی ہے تو یونیورسٹی انتظامیہ اس وقت تک اس پر عملدرآمد نہیں کرتی جب تک معاملہ متعلقہ فورمز سے منظور نہ ہو جائے۔

اسی طرح سلیکشن بورڈ کی سفارشات بھی اس وقت تک قابل عمل نہیں سمجھی جاتیں جب تک انہیں سینڈیکیٹ،سینیٹ سے منظوری حاصل نہ ہو۔ لہذا بایومیٹرک حاضری کے نام پر ایسے غیرمنظور شدہ اور غیرقانونی احکامات کا نفاذ یونیورسٹی ایکٹ اور سینڈیکیٹ کے فیصلوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن نے وائس چانسلر پر واضح کیا ہے کہ اساتذہ کے خلاف جاری کیے گئے غیرقانونی نوٹیفکیشنز اور خطوط فوری طور پر واپس لیے جائیں۔ اساتذہ کی حاضری کے حوالے سے جو طریق کار سینڈیکیٹ نے منظور کیا تھا، وہ مثر انداز میں نافذ العمل ہے، اور کسی بھی نئی پالیسی یا نظام کو صرف متعلقہ آئینی و قانونی فورمز کی منظوری کے بعد ہی نافذ کیا جا سکتا ہے