خود کو جعلی علمی انعام دینے والا فرانسیسی پروفیسر تحقیقات کی زد میں

فلورن مونٹاکلیرنے خود ہی جعلی عالمی انعام بنایا اور پھر خود کو اس کا فاتح قرار دیاتھا،رپورٹ

جمعہ 8 مئی 2026 22:53

پیرس (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 08 مئی2026ء) فرانس میں زبان و ادب کے ایک استاد فلورن مونٹاکلیر کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، ان پر الزام ہے کہ انہوں نے خود ہی ایک جعلی عالمی انعام بنایا اور پھر خود کو اس کا فاتح قرار دے دیا۔امریکی ٹی وی کے مطابق مونٹاکلیر کا دعوی تھا کہ مجھے 2016 میں پیرس میں ہونے والی ایک تقریب میں علمِ لسانیات کے طلائی تمغے سے نوازا گیا، تقریب میں وزرا اور نوبیل انعام یافتہ شخصیات بھی شریک ہوئی تھیں، بعد ازاں انکشاف ہوا کہ نہ تو یہ انعام حقیقی تھا اور نہ ہی اسے دینے والا ادارہ موجود تھا۔

(جاری ہے)

تحقیقات کے مطابق پروفیسر نے 2015 میں اس منصوبے کی بنیاد رکھی تھی جبکہ مقامی اخبار نے انہیں نوبیل انعام کی دوڑ میں شامل شخصیت بھی قرار دیا تھا۔پولیس کے مطابق مونٹاکلیر نے اعتراف کیا کہ انہوں نے تقریب سے پہلے 250 یورو میں خود تمغہ تیار کروایا تھا تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ دھوکا نہیں بلکہ علمی دنیا میں نیا اعزاز متعارف کروانے کی ناکام کوشش تھی۔رپورٹس کے مطابق یونیورسٹی نے پروفیسر کو غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دیا ہے جبکہ فرانسیسی حکام اب یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا اس جعلی اعزاز سے ان کے تدریسی نظام کو غیر قانونی فائدہ پہنچا یا نہیں۔

متعلقہ عنوان :