کانگو میں شہریوں پر حملوں میں اضافہ، اقوام متحدہ نے تشویش ظاہر کر دی

ہفتہ 9 مئی 2026 09:22

اقوام متحدہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 09 مئی2026ء) متحدہ نے مشرقی کانگو (ڈی اآر سی ) میں شہریوں پر حالیہ مہلک حملوں میں اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صورتحال انسانی بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹر ی جنرل کے نائب ترجمان فرحان حق نے بتایا کہ گزشتہ تین روز کے دوران صوبہ ایتوری اور شمالی کیوو میں مختلف حملوں میں کم از کم 34 شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور (اوسی ایچ اے ) کے مطابق ایتوری کے علاقوں ایرومو اور مامباسا میں منگل سے جمعرات کے درمیان ہونے والے حملوں میں کم از کم 15 افراد مارے گئے، جبکہ تشدد کے باعث متعدد خاندانوں نے شمالی کیوو کے قریبی دیہات میں پناہ لے لی۔

(جاری ہے)

اسی طرح شمالی کیوو کے علاقے اوئچا میں ایتوری کی سرحد کے قریب ایک مسلح گروہ کے حملے میں منگل اور بدھ کو کم از کم 19 شہری ہلاک ہوئے۔

اقوام متحدہ کے مطابق مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ کئی شہریوں کو کھیتوں میں کام کے دوران نشانہ بنایا گیا، جبکہ متعدد افراد اب بھی لاپتا ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ سونے کی کانوں سے مالا مال علاقے مامباسا میں مارچ کے وسط سے اب تک کم از کم 130 شہری ہلاک اور 500 سے زائد افراد اغوا کیے جا چکے ہیں۔تشدد کے باعث مامباسا اور پڑوسی صوبہ شوپو میں 68 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ شمالی کیوو کے بینی اور لوبیرو علاقوں میں بھی 3 لاکھ 10 ہزار سے زیادہ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔

فرحان حق نے کہا کہ انسانی امدادی ادارے متاثرہ علاقوں میں فوری ضروریات اور بے گھر افراد کی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے تمام متحارب فریقوں سے مطالبہ کیا کہ شہریوں پر حملے فوری طور پر بند کیے جائیں اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی پاسداری کی جائے۔

متعلقہ عنوان :