میکسیکو نے امریکی سیاست میں مداخلت کے الزامات مسترد کر دیئے

ہفتہ 9 مئی 2026 09:28

میکسیکو سٹی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 09 مئی2026ء) میکسیکو کی صدر کلاڈیا شینبام نے امریکہ میں موجود میکسیکن قونصل خانوں پر مقامی سیاست میں مداخلت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ قونصل خانوں کا کام صرف اپنے شہریوں کا تحفظ کرنا ہے۔شنہوا کے مطابق پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر شینبام نے کہا کہ یہ دعویٰ “مکمل طور پر غلط” ہے کہ میکسیکن قونصل خانے امریکہ میں سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح میکسیکو میں امریکی اور دیگر ممالک کے قونصل خانے اپنے شہریوں کی مدد اور حفاظت کے لیے کام کرتے ہیں، اسی طرح میکسیکن قونصل خانوں کی ذمہ داری بھی صرف اپنے شہریوں کی معاونت تک محدود ہے۔ان کا یہ بیان امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی محکمہ خارجہ میکسیکن قونصل خانوں کی سرگرمیوں کی تحقیقات اور ممکنہ طور پر بعض قونصل خانے بند کرنے پر غور کر رہا ہے۔

(جاری ہے)

رپورٹ کے مطابق یہ اقدام گزشتہ ماہ شمالی میکسیکو میں انسدادِ منشیات کارروائی کے دوران امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے دو اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد زیر غور آیا۔صدر شینبام نے واضح کیا کہ میکسیکو کی حکومت کو قونصل خانوں کے جائزے یا ممکنہ بندش سے متعلق کوئی باضابطہ اطلاع موصول نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ امریکہ میں قائم میکسیکو کے 50 سے زائد قونصل خانے بین الاقوامی قوانین اور سفارتی روایات کے مطابق بیرونِ ملک مقیم میکسیکن شہریوں کو تحفظ اور معاونت فراہم کرتے ہیں اور وہ امریکی پالیسیوں کا مکمل احترام کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ کی جانب سے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف سخت اقدامات اور چھاپوں کے بعد میکسیکو نے اپنی قونصلر خدمات مزید مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔