جنوبی افریقہ نے زینوفوبیا کے الزامات مسترد کر دیے، ہجرت کے مسئلے پر مذاکرات کی حمایت

ہفتہ 9 مئی 2026 09:41

جوہانسبرگ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 09 مئی2026ء) جنوبی افریقہ نے غیر ملکی شہریوں کے خلاف زینوفوبیا کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ واقعات انفرادی نوعیت کے تھے، جبکہ حکومت نے افریقی ممالک کے ساتھ ہجرت کے مسائل پر سفارتی رابطوں اور مذاکرات جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔شنہوا کے مطابق یہ ردِعمل اس وقت سامنے آیا جب گھانا نے افریقی یونین (اے یو ) سے مطالبہ کیا کہ جون میں ہونے والے مڈ ایئر کوآرڈینیشن سمٹ میں جنوبی افریقہ میں افریقی شہریوں کے خلاف مبینہ “زینوفوبک حملوں” پر بحث کی جائے۔

جنوبی افریقہ کے محکمہ بین الاقوامی تعلقات و تعاون نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت نے اپریل کے آخر سے پیش آنے والے بعض واقعات، جن میں دیگر افریقی ممالک کے شہری بھی شامل تھے، کی فوری مذمت کی تھی۔

(جاری ہے)

رپورٹس کے مطابق اپریل کے آخر سے جوہانسبرگ، پریٹوریا اور ڈربن سمیت مختلف شہروں میں غیر قانونی ہجرت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے، جن میں بعض مقامات پر تشدد بھی دیکھنے میں آیا۔

مظاہرین کا مؤقف تھا کہ غیر ملکی شہری مقامی افراد کے روزگار اور کاروباری مواقع متاثر کر رہے ہیں۔محکمے کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شہریوں، رہائشیوں اور غیر ملکی مہمانوں کی حفاظت یقینی بنانے اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ وزیر رونالڈ لامولا نے گھانا اور نائجیریا سمیت کئی افریقی ممالک کے حکام سے رابطہ کر کے صورتحال پر بریفنگ دی اور ملک میں مقیم تمام افراد کے حقوق کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا۔

ڈرکو نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ان دعوؤں کو بھی مسترد کیا جن میں کہا گیا تھا کہ حالیہ احتجاج کے دوران گھانا اور نائجیریا کے شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ محکمہ کے مطابق ان الزامات کے حق میں کوئی قابلِ اعتماد ثبوت موجود نہیں۔