آسیان ممالک کی حمایت کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک2030 تک 30 ارب ڈالر فراہم کرے گا، صدر ماساتو کاندا

ہفتہ 9 مئی 2026 11:10

فلپائن ،سیبو (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 09 مئی2026ء) ایشیائی ترقیاتی بینک نے اعلان کیا ہے کہ وہ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم ( آسیان)کے رکن ممالک کی طویل مدتی ترقیاتی ترجیحات کو آگے بڑھا نے کے لیے 2030تک 30 بلین ڈالر فراہم کرے گا ۔ اماراتی نیوز ایجنسی وام کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدر ماساتو کاندا نے یہ اعلان فلپائن کے شہر سیبو میں منعقدہ 48ویں اجلاس میں اپنی شرکت کے دوران کیا، جہاں رکن ممالک کے رہنماؤں نےایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ دیرینہ شراکت داری اور خطے کے مرکزی مالیاتی ادارے کے طور پر اس کے کردار کا خیرمقدم کیا۔

صدر ماساتو کاندا اجلاس میں فلپائن کے صدر فرڈینینڈ آر مارکوس جونیئر کی زیر صدارت بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے۔

(جاری ہے)

ماساتو کاندا نے کہا کہجنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم کی واضح ترجیحات اور مضبوط عزائم ہیں، لیکن اصل چیلنج ان پر عمل درآمد ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطہ جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال اور معاشی جھٹکوں جیسے متعدد بحرانوں کا سامنا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک خطے کا مرکزی بینک ہونے کے ناطے مالی معاونت، مہارت اور 30 بلین ڈالر کے عوامی و نجی سرمایہ کاری کے منصوبے کے ذریعے رکن ممالک کی ترجیحات کو براہ راست سہارا دے رہا ہے۔طویل مدتی استحکام کے لیے اس 30 بلین ڈالر کی مالی معاونت کو پانچ علاقائی اہم منصوبوں کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ اس پیکیج میں 6 بلین ڈالر سرمایہ بازاروں کو مضبوط بنانے اور 5بلین ڈالر جنوب مشرقی ایشیائی بجلی گرڈ کو تیز کرنے کے لیے شامل ہیں، جو پہلے سے اعلان کردہ 2035 تک 10 بلین ڈالر کی حمایت کا حصہ ہے۔

اس کے علاوہ مصنوعی ذہانت کی تیاری، سمندری معیشت کو فروغ دینے اور دریاؤں کی مزاحمتی صلاحیت بڑھانے کے لیے بھی سرمایہ کاری کی جائے گی۔جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم ( آسیان) کے سیکرٹری جنرل کاو کِم ہورن نے کہا کہ تنظیم ایشیائی ترقیاتی بینک کے اپنے خطے اور عوام کے لیے بڑھتے ہوئے عزم کا خیرمقدم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2030 تک 30 بلین ڈالر کی فراہمی کا اعلان اعتماد کا ایک مضبوط پیغام ہے اور یہ تنظیم کے وژن کو حقیقت میں بدلنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس شراکت دار کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھیں گے تاکہ توانائی کے روابط، ماحولیاتی مزاحمت اور سب کے لیے جامع ترقی جیسے مشترکہ اہداف حاصل کیے جا سکیں۔

متعلقہ عنوان :