سپین: ہنٹا وائرس سے متاثرہ کروز شپ سے مسافروں کا انخلاء شروع

یو این پیر 11 مئی 2026 03:15

سپین: ہنٹا وائرس سے متاثرہ کروز شپ سے مسافروں کا انخلاء شروع

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 11 مئی 2026ء) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اعلان کیا ہے کہ جزائر کینیری کے شہر ٹینیریفے میں ہنٹا وائرس سے متاثرہ مسافر بردار بحری جہاز سے مسافروں کے انخلا کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس اس کارروائی کی نگرانی کے لیے بحر اوقیانوس میں واقع اس جزیرے پر پہنچ گئے ہیں جنہوں نے بتایا ہے کہ 'ڈبلیو ایچ او' کے ماہرین سپین کی وزارت صحت کے تعاون سے مسافروں کا طبی جائزہ لے رہے ہیں جبکہ وزارت داخلہ کی مدد سے خصوصی پروازوں کے انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں تاکہ مسافروں کو ان کے ممالک میں منتقل کیا جا سکے۔

Tweet URL

ڈاکٹر ٹیڈروز نے واضح کیا کہ ہنٹا وائرس کووڈ-19 نہیں ہے جبکہ بیماری کی نوعیت اور ہسپانوی حکومت کی احتیاطی تدابیر کے پیش نظر ٹینیریفے کے لوگوں کو اس سے کوئی خطرہ لاحق نہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ 'ڈبلیو ایچ او' سپین اور مقامی حکام کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا کیونکہ یہ معاملہ پوری دنیا اور خاص طور پر ٹینیریفے کے لوگوں کے لیے نہایت اہمیت رکھتا ہے۔

انخلا کی منظم کارروائی

ہنٹا وائرس سے متعلق 'ڈبلیو ایچ او' کی روزانہ بریفنگ میں ادارے کے شعبہ طبی اقدامات کی ڈائریکٹر ڈیانا روجاز الویریز نے بتایا ہے کہ مسافروں کے انخلا کا عمل آج صبح سات بجے شروع ہوا جبکہ مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے تین بجے ہی تمام تیاریاں مکمل تھی اور کارروائی انتہائی منظم انداز میں جاری تھی۔

ابتدا میں ہسپانوی مسافروں اور عملے کو جہاز سے اتار کر بسوں کے ذریعے ہوائی اڈے پہنچایا گیا جہاں سے انہیں خصوصی پروازوں کے ذریعے روانہ کیا گیا۔ سپین، فرانس اور کینیڈا کے مسافروں اور عملے کا انخلا مکمل ہو چکا ہے جبکہ اس وقت نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والے مسافروں اور عملے کا انخلا جاری ہے۔ 30 اہلکار جہاز پر ہی موجود رہیں گے تاکہ طبی ٹیم کے ہمراہ جہاز کو واپس نیدرلینڈز لے جا سکیں۔

ڈاکٹر الویریز کے مطابق، انخلا کا عمل آج غروب آفتاب تک جاری رہے گا اور کل صبح سویرے دوبارہ شروع کیا جائے گا۔

مسافروں کی فعال نگرانی

'ڈبلیو ایچ او' میں وباؤں سے نمٹنے کی تیاری کے شعبے کی ڈائریکٹر ماریا وان کرخووے نے بتایا ہے کہ ٹینیریفے میں انخلا کا عمل سوموار کی شام تقریباً سات بجے تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ انخلا کے بعد جہاز کو نیدرلینڈز پہنچنے میں مزید چند روز لگیں گے جہاں اس کی مکمل جراثیم کشی اور صفائی کی جائے گی۔

انہوں نے انخلا کے طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ:

  • جہاز پر موجود تمام افراد کا طبی معائنہ کیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ مزید کسی فرد میں بیماری کی علامات تو موجود نہیں۔
  • اگر کوئی شخص بیمار ہو یا اس میں وائرس کی علامات پائی جائیں تو اسے الگ طبی نگرانی میں اس کے ملک میں منتقل کیا جائے گا اور وہ دیگر مسافروں کے ساتھ ایک ہی پرواز میں سفر نہیں کرے گا۔
  • 'ڈبلیو ایچ او' نے تمام افراد کی فعال نگرانی کی سفارش کی ہے جس کے تحت روزانہ جسمانی درجہ حرارت جانچا جائے گا اور بیماری کی ممکنہ علامات پر نظر رکھی جائے گی۔ متعلقہ افراد کو چھ ہفتوں تک گھر میں یا کسی مخصوص مرکز میں خود کو الگ تھلگ رکھنا ہو گا۔