تھائی لینڈ کی کال کوٹھڑی سے رہائی پانے والی مریم کی آپ بیتی

یو این پیر 11 مئی 2026 04:30

تھائی لینڈ کی کال کوٹھڑی سے رہائی پانے والی مریم کی آپ بیتی

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 11 مئی 2026ء) تھائی لینڈ میں منشیات سمگلنگ کے الزام میں دو دہائیاں قید کاٹنے والی مریم رہائی کے بعد کپڑے سینے کے کام سے باعزت روزگار کما رہی ہیں جن کی زندگی بدلنے میں اقوام متحدہ کے ادارہ انسداد منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) کا اہم کردار ہے۔

مریم تدین اپنی عمر کی تیسری دہائی میں تھیں جب انہیں سزائے موت سنائی گئی۔

وہ جنوبی تھائی لینڈ میں کرائے کے ایک گھر میں رہتی تھیں جہاں پولیس نے یابا نامی منشیات کی پانچ لاکھ سے زائد گولیاں برآمد کیں۔ یابا میتھ ایمفیٹامائن اور کیفین کا ایک غیر قانونی نشہ آور مرکب ہے جو جنوب مشرقی ایشیا کے کئی حصوں میں عام ہے۔

مریم نے 20 سال، پانچ ماہ اور 15 دن جیل میں گزارے۔ انہیں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

(جاری ہے)

ان کے ساتھ گرفتار ہونے والے ایک شخص کو مہلک انجیکشن دیا گیا تو جان گئیں کہ اگلی باری ان کی ہو گی۔

ان کے گھر سے اس قدر بڑی تعداد میں یابا گولیاں برآمد ہوئی تھیں کہ ان سے ایک ٹرک بھر جاتا لیکن وہ ان کی نہیں تھیں۔ تاہم پولیس نے ان کی وضاحت نہ سنی۔ جیل میں پہنچتے ہی سب کچھ بہت تیزی سے ہوا اور ان پر منشیات کی سمگلنگ کا الزام عائد کر کے سزائے موت سنا دی گئی۔ اس وقت وہ مرنے کے لیے تیار تھی۔

© UNODC/Laura Gil مریم رہائی کے بعد اپنے گاؤں میں ہونے والے اپنے استقبال کی ویڈیو دکھا رہی ہیں۔

موت کے سائے میں آٹھ سال

آئندہ دو برس تک انہیں ہر وقت ایک تختی گلے میں لٹکانا پڑتی تھی جس پر 'سزائے موت' لکھا ہوتا تھا۔

یوں مریم نے آٹھ سال موت کے سائے میں گزارے۔

ایک روز علاقے میں بڑا سیلاب آیا تو انہیں دوسری جیل میں منتقل کر دیا گیا۔ وہاں انہیں بتایا گیا کہ شاہی معافی کے تحت ان کی سزائے موت معاف کر دی گئی ہے۔

سزا کے منتظر ان کے آٹھ ساتھی قیدیوں کو بھی معافی ملی اور انہوں نے خوشی میں کیک بنایا۔

وہ کہتی ہیں کہ زندہ بچ جانے پر انہیں سکون تو ملا مگر یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ پہلے ہی مر چکی ہیں کیونکہ انہیں باقی زندگی طویل عرصہ جیل میں گزارنا تھا۔

ایک روز انہوں نے سوچا کہ انتظار بہت طویل ہے تو کیوں نہ کسی کام پر توجہ دی جائے۔ چنانچہ، انہوں نے جیل کی کلاسوں میں سلائی سیکھنا شروع کی جس کے بعد انہیں کام پر لگا دیا گیا۔

وہ جتنا زیادہ کام کرتیں زندگی اسی قدر بامقصد محسوس ہونے لگتی تھی۔

جیل میں قیدیوں کو یہ ہنر سکھانے کے لیے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسداد منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) نے تعاون فراہم کیا تھا۔

وہ کپڑوں پر کڑھائی کا کام کرتی تھیں۔ اس کی بدولت انہیں چار ہزار خواتین قیدیوں والی اس جیل میں کچھ سہولتیں بھی ملنے لگیں اور زندگی میں قدرے آسانی پیدا ہوئی۔

© UNODC/Laura Gil جنوبی تھائی لینڈ میں واقع ایک جیل میں قیدی خواتین کپڑوں کی سلائی کر رہی ہیں۔

تنہائی، دکھ اور حوصلہ

وہ بتاتی ہیں کہ ان کے لیے سب سے مشکل وقت وہ تھا جب انہیں جنوبی تھائی لینڈ کی سونگکھلا جیل میں منتقل کیا گیا۔ وہاں زیادہ تر قیدی عورتیں بہت غریب تھیں۔

ان کے لیے یہ اس لیے بھی تکلیف دہ تھا کہ کچھ وقت کے بعد اہلخانہ نے ان سے ملاقات کے لیے آنا چھوڑ دیا۔ انہیں لگتا تھا کہ اب وہ ہمیشہ جیل میں ہی رہیں گی۔

ان کے شوہر نے دوسری شادی کر لی اور یہ بات ان کے لیے نہایت تکلیف دہ تھی۔

مریم فخریہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے خود کو کام میں مصروف رکھا۔ وہ اپنے ماضی اور ان حالات کے بارے میں نہیں سوچتی تھیں جنہوں نے انہیں جیل میں پہنچایا۔ وہ جانتی تھیں کہ ماضی کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا اور انہیں آگے بڑھنا تھا۔ جب بھی ان کے ذہن میں پریشان کن خیالات آتے تو وہ خود کو کپڑے سینے اور کڑھائی کرنے میں مصروف کر لیتی تھیں۔

زندگی اور موت کے نقش

2004 میں آنے والے سونامی نے سب کچھ بدل دیا۔

اس دوران حکام نے انہیں سونامی میں ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کے لیے کپڑے کے تھیلے سینے اور کاڑھنے کا کام سونپا۔ وہ مسلسل یہ تھیلے سیتی رہتی تھیں کیونکہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ اس طرح انہیں اپنی زندگی کے دکھوں سے دھیان ہٹانے میں مدد ملی۔

2021 میں، 52 برس کی عمر میں، مریم کو اچھے رویے کی بنیاد پر دوسری شاہی معافی ملی اور انہیں جیل سے رہا کر دیا گیا۔

سلائی کڑھائی کا کاروبار چلانے والے ایک شخص نے انہیں ملازمت دے دی جس سے انہیں اپنی زندگی بہتر بنانے میں مدد ملی۔

آج، 56 سال کی عمر میں وہ سلائی کڑھائی کا کام کرتی ہیں اور اپنے بچوں اور شوہر کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں جن سے ان کی صلح ہو چکی ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے برائے انسدادِ منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) نے تھائی لینڈ کی تقریباً 60 جیلوں کو فنی تربیت کا سامان فراہم کیا ہے تاکہ قیدی لکڑی کا کام، سلائی اور دیگر عملی ہنر سیکھ سکیں۔ اس طرح انہیں قید کے دوران اور رہائی کے بعد بہتر زندگی گزارنے کے مواقع حاصل ہوتے ہیں۔