اسرائیلی اٹارنی جنرل نے بھی نئے موساد سربراہ کی تقرری کی مخالفت کر دی

ٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کو خط میں نئے موساد چیف کی تقرری کے خلاف رائے سے آگاہ کر دیا

پیر 11 مئی 2026 11:45

تل ابیب (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 11 مئی2026ء) اسرائیل کے اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کو اپنے ایک تحریر کیے گئے خط میں نئے موساد چیف کی تقرری کے خلاف رائے سے آگاہ کر دیا ہے۔ اسرائیلی سپریم کورٹ کے نام لکھا گیا یہ خط انہوں نے میڈیا کو بھی جاری کر دیا ہے۔اسرائیلی سپریم کورٹ آنے والے دنوں میں اس موضوع پر مختلف درخواستوں کا جائزہ لینے والی ہے۔

یہ درخواستیں میجر جنرل رومان گوفمین کو موساد چیف مقرر کرنے کے خلاف دائر کی گئی ہیں۔اٹارنی جنرل گالی بہاراو میارا کی مخالفت اس سلسلے میں اہم ترین ہے۔ اٹارنی جنرل نے 2022 میں ہونے والے ایک کیس کو اپنے مخالفانہ مقف کی بنیاد بنایا ہے کہ گوفمین نے ایک اسرائیلی نوجوان کی رہائی کے لیے کچھ کردار ادا نہیں کیا تھا، جسے فوج نے گوفمین کی درخواست پر ہی بھرتی کیا ہوا تھا۔

(جاری ہے)

یاد رہے گوفمین اسرائیلی فوج کی شمالی کمانڈ کی سربراہی کر چکے ہیں۔ جب مذکورہ نوجوان کی رہائی کے لیے ان کی مدد کی ضرورت تھی تو اس وقت یہ شمالی اسرائیلی کمانڈ کے ہی سربراہ تھے۔اٹارنی جنرل کے مطابق 17 سالہ نوجوان کو اس وقت فوجی افسر نے جاسوسی کے مقاصد کے لیے بھرتی کیا تھا تاکہ وہ ملک کے دشمن لوگوں کی آن لائن مخبری کرے اور آپریشنز میں مدد دے۔

لیکن اس نوجوان کو اسرائیل کی داخلی سلامتی سے متعلق ادارے 'شین بیت' نے گرفتار کر لیا۔ اس دوران اسے تقریبا دو ماہ تک قید تنہائی میں رکھا گیا۔ جبکہ ایک سال کے لیے گھر میں نظر بند کیا گیا۔تاہم بعد ازاں اس لڑکے کو الزامات سے بری کر کے رہا کر دیا گیا۔ لیکن اسے لمبی تحقیقات کے بعد رہائی مل سکی۔ اب یہ اس وقت کا سترہ سالہ لڑکا بھی نئے چیف آف موساد کی تقرری کے خلاف ایک درخواست گزار ہے۔

وزیر اعظم نیتن یاہو نے میجر جنرل گوفمین کو موساد کا سربراہ بنانے کا فیصلہ دسمبر 2025 میں کیا تھا۔ اس سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم کو خود اسرائیل کے داخلی انٹیلی جنس کے ادارے کے سربراہ کے ساتھ ایک تنازعہ میں پڑنا پڑا تھا۔اس اعلی تقرری کے لیے سفارش کرنے والی کمیٹی کے سربراہ سپریم کورٹ کے سابق جج بھی موساد کے نئے چیف کی اس تقرری کی مخالفت کر رہے ہیں۔ وہ گوفمین کو جھوٹا آدمی قرار دیتے ہیں، کہ اس نے عدالت میں بھی ایک بار جھوٹ بولا تھا۔ اس لیے یہ اخلاقی طور پر کمزور شخص ہے اسے یہ اعلی عہدہ نہیں دیا جانا چاہیے۔