دلی یونین آف جرنلسٹس کی سینئر صحافی ستیم ورما کیخلاف نیشنل سیکورٹی ایکٹ کے تحت کارروائی کی مذمت

جمعہ 15 مئی 2026 14:10

نئی دلی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 15 مئی2026ء) دلی یونین آف جرنلسٹس نے سینئر صحافی ستیم ورما کے خلاف قومی سلامتی ایکٹ کے تحت کارروائی کی شدیدمذمت کرتے ہوئے اسے آزادی صحافت پر حملہ قرار دیا ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق تنظیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ستیم ورما،نے جو مزدور بگول کے ایڈیٹر ہیں، نوئیڈا اور بھارت کے دیگر حصوں میں مزدوروں اور کارکنوں کے مسائل کو اجاگر کیا ہے ۔

یونین کے مطابق ان کے خلاف کالے قانون قومی سلامتی ایکٹ کا استعمال آزاد صحافیوں کو دبانے کی ایک اور کارروائی ہے۔بیان میں اترپردیش کی یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ کالے قوانین کے ذریعے صحافیوں اور اختلافی آوازوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔

(جاری ہے)

یونین نے صحافی صدیق کپن کی گرفتاری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات میڈیا کو خوفزدہ کرنے کے ایک مسلسل رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔

یونین نے کہا، صحافت کوئی جرم نہیں، جبکہ بھارتی آئین آزادی اظہار کی ضمانت دیتا ہے۔ تنظیم نے اتر پردیش حکومت سے مطالبہ کیا کہ ستیم ورما کے خلاف این ایس اے کے الزامات فوری طور پر واپس لیے جائیں اور ان کی رہائی یقینی بنائی جائے۔بیان میں نوئیڈا مظاہروں کے سلسلے میں کارکن اکریتی چودھری کے خلاف این ایس اے کے استعمال کی بھی مذمت کی گئی اور الزام لگایا گیا کہ حکومت اختلافی آوازوں اور کارکنوں کو خاموش کرانے کے لیے اس قانون کا غلط استعمال کر رہی ہے۔

یونین نے الہ آباد ہائی کورٹ کے ماضی کے مشاہدات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت بھی اتر پردیش پولیس کی جانب سے این ایس اے کے مبینہ غلط استعمال پر سوالات اٹھا چکی ہے۔ بیان میں زور دیا گیا کہ یہ عمل بند ہونا چاہیے۔یہ مشترکہ بیان ڈی یو جے کی صدر سجاتا مدھوک، نائب صدر ایس کے پانڈے اور جنرل سیکریٹری اے ایم جگیش کی جانب سے جاری کیا گیا۔