وادی کیلاش میں چلم جوشی تہوار کی تقریبات جاری

فیسٹول کے دوسرے روز آج چتیاک زوشی کی مختلف رسومات ادا کی جائے گی

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعہ 15 مئی 2026 14:38

وادی کیلاش میں چلم جوشی تہوار کی تقریبات جاری
چترال(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔15 مئی ۔2026 ) وادی کیلاش میں چلم جوشی تہوار کی تقریبات جاری ہیں‘فیسٹول کے دوسرے روز آج چتیاک زوشی یعنی چھوٹے تہوار کی مختلف رسومات ادا کی جائے گی اس تہوار میں نومولود بچوں پر بکری کا تازہ دودھ چھڑکا جاتا ہے اور نئے سال کی مبارکباد دی جاتی ہے اس موقع پر کیلاش میںاخروٹ اور خشک شہتوت چھت پر رکھے جاتے ہیں، جب تمام گاﺅں والے جمع ہوتے ہیں تو وہی اخروٹ اور شہتوت تقسیم کیے جاتے ہیں تہوار میں مختلف رسومات اور روایتی رقص دن بھر جاری رہتے ہیں چلم جوشی تہوار میں کیلاش وادیوں میں موسم بہار کا استقبال کرنے کا جشن ہے.

(جاری ہے)

خیبرپختون خواہ ٹورازم اتھارٹی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد سعد کے مطابق جوشی فیسٹیول 17 مئی تک چترال لوئر کیلاش کی تینوں وادیوں میں جاری رہے گا فیسٹول کے پہلے دن وادی رمبور میں چریک پیپی، یعنی دودھ پینے اور تقسیم کرنے کے دن کی رسم منائی جاتی ہے رسم میں تمام لڑکیاں اور لڑکے بکریوں کے باڑوں میں جاتے ہیں اور باڑوں کو جنگلی پھولوں اور اخروٹ کے پتوں سے سجایا جاتا ہے.

انہوں نے کہا کہ آپس میں محبت بانٹنے کے لیے تہوار میں دودھ کے ساتھ ساتھ پنیر اور دہی بھی تقسیم کیا جاتا ہے جبکہ اخروٹ والی روٹی بنا کر تقسیم کرنے کی رسم بھی تہوار کا حصہ ہے فیسٹیول میں روایتی ڈھول کی تھاپ پر رقص بھی کیا جاتا ہے کیلاشی قبائل کے لیے یہ فیسٹول روحانی وسماجی روایات کا مظہر ہے اس دوران کیلاشی لوگ عبادات کا اہتمام بھی کرتے ہیں جن میں لوگ اپنی اور اپنے مویشیوں کی صحت وسلامتی کے لیے دعائیں کرتے ہیں.

یہ تہوار رشتے تلاش کرنے والے نوجوانوں کے حوالے سے بھی معروف ہے اس کے اختتام پر ان لوگوں کے اس مقصد میں کامیابی کے اعلانات کیے جاتے ہیں تہوار کی سرگرمیوں میں گانا اور رقص شامل ہیں جن میں خواتین روایتی نئے کپڑے پہنتی ہیں اور کمیونٹی بھر میں رقص کر کے موسم بہار کا خیرمقدم کرتی ہیں اگرچہ یہ تہوار تین کلاشی وادیوں پر پھیلا ہوا ہے لیکن وادی بمبوریٹ زیادہ آسان عوامی رسائی کی وجہ سے سب سے زیادہ سیاحوں کو اپنی جانب راغب کرتی ہے یہ تہوار کیلاشی کمیونٹی کے لیے ایک پلیٹ فارم بن گیا ہے کہ وہ اپنی ثقافت کو دنیا کے سامنے پیش کریں اور سیاحوں کو راغب کرکے اپنی علاقائی معیشت میں بہتری لا سکے. 

متعلقہ عنوان :