بری امام میں مکان مسمار کرنے کی مثال نہیں ملتی، محسن نقوی میں کب سے یزیدیت والا رویہ آگیا، دنیش کمار

اگر محسن نقوی نے غریبوں کے ساتھ یہی رویہ برقرار رکھا تو وہ زندگی بھر کبھی ملک کے وزیراعظم نہیں بن سکیں گے جوکہ ان کی دلی خواہش ہے؛ بلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹر کا ایوان میں اظہار خیال

Sajid Ali ساجد علی جمعہ 15 مئی 2026 12:54

بری امام میں مکان مسمار کرنے کی مثال نہیں ملتی، محسن نقوی میں کب سے ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مئی2026ء) بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے سینیٹر دنیش کمار نے اسلام آباد میں کچی آبادیوں کی مسماری اور اقلیتی کالونیوں کو بے دخلی کے نوٹسز ملنے پر وزیر داخلہ محسن نقوی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے بڑا بیان دے دیا۔ اطلاعات کے مطابق بلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹر دنیش کمار نے ایوانِ بالا میں خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد کی انتظامیہ اور وزارتِ داخلہ کی جانب سے غریب بستیوں کے خلاف جاری آپریشن کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا، انہوں نے بری امام کے قریب مکانات کی مسماری کو انسانیت کے خلاف قرار دیتے ہوئے اسے 'یزیدیت' سے تشبیہ دی۔

سینیٹر دنیش کمار نے ایوان کو بتایا کہ بری امام میں جس طرح غریبوں کے سروں سے چھت چھینی گئی اور مکان مسمار کیے گئے، اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی، رمشہ کالونی سمیت اسلام آباد میں موجود اقلیتوں کی دیگر بستیوں کو بھی مکانات خالی کرنے کے نوٹسز جاری کر دیئے گئے ہیں، جو کہ سراسر ناانصافی ہے۔

(جاری ہے)

وزیر داخلہ کے رویے پر سوال اٹھاتے ہوئے سینیٹر دنیش کمار نے کہا کہ محسن نقوی میں کب سے یزیدیت والا رویہ آگیا ہے؟ وہ غریبوں سے ان کی کالونیاں خالی کروا رہے ہیں، اگر محسن نقوی نے غریبوں کے ساتھ یہی رویہ برقرار رکھا تو وہ زندگی بھر کبھی ملک کے وزیراعظم نہیں بن سکیں گے جو کہ ان کی دلی خواہش ہے، ریاست کا کام شہریوں کو تحفظ دینا ہے، نہ کہ انہیں سڑکوں پر لا کھڑا کرنا، کچی آبادیوں اور کالونیوں کے لوگوں کو بے گھر کرنے سے پہلے انہیں متبادل جگہ فراہم کی جائے، اقلیتوں کے خلاف جاری انتقامی کارروائیوں اور بے دخلی کے نوٹسز فوری طور پر واپس لیے جائیں۔