صدر کو استثنیٰ مل گیا، یہ اتنی پاک شخصیت کہ اس پر تاحیات کیس نہیں ہوگا، مولانا فضل الرحمان

سندھ پر ڈاکوؤں کی حکومت ہے، یہ اسٹیبلشمنٹ تو بڑی بے وقوف ہے کہ ایسے پاک صاف آدمی کو 8، 10 سال جیل میں رکھا، پاکستان تمہاری وجہ سے یرغمال بن چکا، اور کہتے ہو ہم پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں؛ جلسہ عام سے خطاب

Sajid Ali ساجد علی جمعہ 15 مئی 2026 13:51

صدر کو استثنیٰ مل گیا، یہ اتنی پاک شخصیت کہ اس پر تاحیات کیس نہیں ہوگا، ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مئی2026ء) جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اپنے حالیہ خطاب میں ریاست، اسٹیبلشمنٹ اور موجودہ حکومتی ڈھانچے کے خلاف سخت ترین چارج شیٹ پیش کردی، انہوں نے ملک کی موجودہ صورتحال کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے سیکیورٹی اداروں اور عدالتی نظام پر کڑی تنقید کی۔ کراچی میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان تمہاری وجہ سے یرغمال بن چکا ہے اور کہتے ہو ہم پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں، تم خود بھی پھنس چکے ہو، قوم بھی محصور ہے، ایک آبنائے ہرمز بند ہوا، ہمارے تمام سیاستدانوں کے آبنائے ہُرمز بند ہو گئے، ملک میں آئین اور قانون کا مذاق اڑایا جا رہا ہے، اسٹیبلشمنٹ دھاندلی کرکے ہمیں پارلیمنٹ سے باہر رکھتی ہے، ہم ایک طرف انتہا پسندوں کے فتوؤں کی زد میں ہیں اور دوسری طرف ریاست کے وفادار ہمیں سیاسی طور پر دیوار سے لگا رہے ہیں۔

(جاری ہے)

مولانا فضل الرحمان کہتے ہیں کہ جو سرحدوں، سیاست اور معیشت کے محافظ ہیں، وہی آئین کو موم کی ناک بنا کر جدھر چاہیں موڑ دیتے ہیں، ملک کی تباہی کے ذمہ دار یہی لوگ ہیں، اسٹیبلشمنٹ بڑی بے وقوف ہے کہ جس شخص کو 8 سے 10 سال جیل میں رکھا، آج وہ اتنا پاک صاف ہے کہ تاحیات اس پر مقدمہ نہیں ہو سکتا، کبھی وہ بڑا مجرم بن جاتا ہے اور کبھی اتنی پاک شخصیت کہ اسے قانون سے بالا تر کر دیا جاتا ہے۔

صوبائی حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ اس وقت مکمل طور پر ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر ہے اور بلوچستان خون میں نہا رہا ہے، ریاست ان علاقوں میں امن قائم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے، مجھے فون کر کے پروگراموں میں جانے سے روکا جاتا ہے، لیکن میں کسی سے نہیں ڈروں گا، اگر مجھے قتل کیا گیا تو میں بدلہ نہیں لوں گا بلکہ میرے قتل کی ذمہ دار براہِ راست ریاست ہوگی، مدارس پر قدغن لگائی جارہی ہیں، تمہارا باپ بھی مدارس کو بند نہیں کرسکتا۔