سانحہ پکا قلعہ مہاجر قوم کی تاریخ کا کربلا ہے، شہدا کا خون کل بھی قرض تھا اور آج بھی قرض ہے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی

منگل 26 مئی 2026 21:35

سانحہ پکا قلعہ مہاجر قوم کی تاریخ کا کربلا ہے، شہدا کا خون کل بھی قرض ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 26 مئی2026ء) متحدہ قومی موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے سانحہ پکا قلعہ حیدرآباد کے شہدا کی برسی پر مرکز بہادر آباد سے جاری کردہ اپنے خصوصی بیان میں شہدائے پکا قلعہ کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ 26 اور 27 مئی 1990 کی تاریخ ہماری قومی جدوجہد کا وہ خونچکاں باب ہے جسے نہ مٹایا جا سکتا ہے اور نہ ہی فراموش کیا جا سکتا ہے، یہ سانحہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ مظلوم اور پرامن مہاجر قوم کی نسل کشی کی ایک منظم ریاستی سازش تھی، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پکا قلعہ کی زمین آج بھی ہمارے معصوم بچوں بوڑھوں اور تڑپتی ہوئی ماں بہنوں کے خون کی خوشبو سے مہک رہی ہے، دنیا کی تاریخ میں اس ظلم کی مثال نہیں ملتی کہ شدید گرمی میں کئی روز تک قلعے کا پانی اور بجلی بند رکھی گئی اور جب ہماری مائیں بہنیں اور بیٹیاں اپنے ہاتھوں میں مبارک قرآن پاک سروں پر اٹھا کر پیاس بجھانے اور امن کی دہائی دینے نکلیں تو ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی گئی قرآن پاک کے اوراق خون سے رنگین ہو گئے لیکن ظالموں کے دل نہیں پگھلے، چیئرمین ایم کیو ایم نے اس دور کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت کی صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر آمریت اور فاشزم کا وہ ننگا ناچ ناچا گیا جس نے چنگیز خان اور ہلاکو خان کے مظالم کی یاد تازہ کر دی، تین دہائیوں سے زائد کا عرصہ بیت گیا عدالتیں کھلیں جج بدلے حکومتیں آئیں اور گئیں لیکن پکا قلعہ کے مظلوموں کو آج تک انصاف نہ مل سکا، مقتدر حلقوں کی یہ مجرمانہ خاموشی اس ملک کے عدالتی نظام پر ایک بدنما داغ ہے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کارکنان اور عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ پکا قلعہ کے شہدا کا خون ہمارا وہ تاریخی اثاثہ ہے جس نے مہاجر قوم کو اپنی بقا، شناخت اور حقوق کے لئے یکجا کیا، یہ خون رائیگاں نہیں گیا بلکہ اسی مٹی سے حقوقِ عامہ کی وہ تحریک ابھری جس نے جاگیردارانہ اور وڈیرانہ نظام کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں، ہماری شناخت ہماری سیاست اور ہمارا وقار ان ہی شہدا کی قربانیوں کا مرہونِ منت ہے، انہوں نے انتہائی پرعزم الفاظ میں کہا کہ ہم اپنے شہدا کے خون کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ جب تک ایم کیو ایم کا ایک بھی کارکن زندہ ہے شہدا کے مشن سے غداری نہیں ہونے دی جائے گی، ہم سرخرو ہوں گے، اپنے حقوق چھین کر لیں گے اور سندھ کے شہری علاقوں کے عوام کو ان کا جائز حق دلوا کر رہیں گے، مظلوموں محروموں کا یہ قافلہ ستم گروں کے سامنے کبھی نہیں جھکے گا۔