بھارت ہماری مذہبی، ثقافتی اور تاریخی شناخت کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، میر واعظ

اتوار 31 مئی 2026 00:47

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 31 مئی2026ء) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق نے کشمیری مسلمانوں کے مذہبی حقوق کی مسلسل پامالی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت ہماری مذہبی، ثقافتی اور تاریخی شناخت کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق میر واعظ نے سرینگر میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس مرتبہ بھی عید گاہ سرینگر اور تاریخی جامع مسجد میں عید نما ز ادا نہیں کرنے دی گئی جو انتہائی تکلیف دہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی معاشرے کیلئے سب سے خطرناک اور پریشان کن چیز غیر معمولی واقعات کا تواتر کے ساتھ پیش آنا ہے، جب یہاں کے مسلمانوںکو ہرسال عید کی نماز پڑھنے سے روک دیا جائے ،تو ایک وقت ایسے آئے گا کہ آنے والی نسلیں اسے ایک معمول کی بات سمجھنے لگ جائیں گی۔

(جاری ہے)

میر واعظ نے کہ مزید ستم ظریقی یہ ہے کہ لوگوں کو اس طرح کی ناانصافیوں کیخلاف آواز اٹھانے کی بھی اجازت حاصل نہیں ہے کیوں کہ انہیں پابندیوں ، دھمکیوں ، گرفتاریوں کے ذریعے خاموش رہنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے علاقے کی منتخب شدہ نیشنل کانفرنس حکومت کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اسکا بنیادی فرض ہے کہ وہ مذہبی حقوق کی پامالی کے خلاف آواز بلند کرے۔میرواعظ نے کہاکہ یہ ہمارے وجود اور بقا کا معاملہ ہے لہذا ہم سب کو اس پر سنجیدگی سے غور وفکر کرنا ہوگا۔بھارتی فورسز کیطرف سے ضلع راجور ی کے علاقوں ڈوریمل اور گمبھیر مغلان میں محاصرے اورتلاشی کی کارروائی آج مسلسل آٹھویں روز بھی جاری رہی۔

آپریشن میں مزید تیزی لاتے ہوئے پیرا کمانڈوز کی تازہ کمک منگوالی گئی ہے۔آپریشن میں ہیلی کاپٹر ، ڈرون کیمرے اور سراغ رساں کتے بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔بھارتی حکام دعویٰ کر رہے ہیں کہ علاقے میں متعدد عسکریت پسند موجود ہیں ۔ گزشتہ ایک ہفتے سے زائدعرصے سے جاری اس پرتشدد آپریشن کی وجہ سے لوگ شدید مشکلات کا شکار ہیں اور مسلسل خوف ودہشت کے ماحول میںجی رہے ہیں۔

نئی دلی کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر کے ماتحت انتظامیہ نے ضلع سری نگر میں مزید دو شہریوں کی غیر منقولہ جائیددادیں ضبط کر لی ہیں۔ پولیس نے لیفٹیننٹ گورنر کے حکم پر سرینگر کی فردوس کالونی بمنہ میں مدثر احمد نامی شہری کا دو منزلہ رہائشی مکان اور چار مرلہ اراضی ضبط کر لی۔ ضبط کی گئی جائیداد کی مالیت تقریبا 1.5 کروڑ روپے ہے۔پولیس نے ایک اور کارروائی میں سرینگر ہی کے علاقے مہاراج گنج میں شفیق احمد نامی شخص کا گھر ضبط کیا جس کی مالیت تقریبا 50 لاکھ روپے بتائی جا رہی ہے ۔

کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں، گھروں پر چھاپوں، گرفتاریوں، املاک پر قبضے اور دیگر جابرانہ کارروائیوں کے ذریعے نہتے کشمیریوں کو مسلسل ہراساں اور خوف ودہشت کا شکار کرنے کی شدیدمذمت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی بھارتی حکومت آزادی کی جائز آوازوں کو خاموش کرنے کے لیے اوحشیانہ کارروائیاں کر رہی ہے۔

انہوں نے نظر بند حریت رہنماﺅں اور کارکنوں کی گرتی ہوئی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ انہیں اپنے سیاسی نظریات کی پاداش میں مسلسل قید رکھا جا رہا ہے۔ ترجمان نے اقوام متحدہ پر زور دیاکہ وہ غیرقانونی طور پر نظربندکشمیریوں کی رہائی اورمسئلہ کشمیرکو اپنی کردہ قراردادوں کے مطابق حل کرانے کیلئے کردار ادا کرے۔