ملک میں مہنگائی میں اضافہ 2 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
حکومت ٹماٹر‘پیاز‘آلو جیسی بنیادی اشیاءپر پانچ سے پندرہ فیصدتک ٹیکس وصول کررہی ہے اس کے باوجود اخراجات پورے نہیں ہورہے‘حکومت اپنے اخراجات کو کم کرئے.معاشی ماہرین
میاں محمد ندیم
پیر 1 جون 2026
18:07
(جاری ہے)
سالانہ بنیاد پر دیہی علاقوں میں مہنگائی کی شرح 11.48 فیصد اور شہری علاقوں میں 11.79 فیصد ریکارڈ کی گئی ملک میں مہنگائی کی مجموعی سالانہ شرح 14.47 فیصد پر آ گئی، ہفتہ وار مہنگائی میں 0.33 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے مئی کی ماہانہ رپورٹ میں وفاقی ادارہ شماریات نے کہا تھا کہ 1 ہفتے میں 26 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جبکہ 11 اشیاءسستی اور 14 کی قیمتیں مستحکم رہیں. ہفتہ وار رپورٹ میں کہا گیا تھا 1 ہفتے میں ٹماٹر 7.17 فیصد، پیاز 6.08 فیصد، آٹے کی قیمتوں میں 1.84 فیصد اور آلو کی قیمتوں میں0.87 فیصد اضافہ ہوا جبکہ لہسن، دالیں، انڈے اور کیلے سستے ہوئے ادارہ شماریات کا کہنا ہے کہ کوکنک آئل، چائے اور دہی سمیت دیگر کئی اشیاءمہنگی ہوئیں جبکہ ایک ہفتے میں چکن کا گوشت 8.56 فیصد سستا ہوا . ادھر شہری حلقوں نے سرکاری اعدادوشمار کو مستردکرتے ہوئے کہاہے کہ مہنگائی کی شرح حکومتی اعدادوشمار سے کہیں زیادہ ہے معاشی ماہرین بھی اس سے اتفاق کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ حال ہی میں قومی اسمبلی میں وزیرخزانہ کی جانب سے جمع کروائے گئے ایک جواب میں کھانے پینے کی بنیادی اشیاءپر عائدٹیکسوں کی تفصیلات جمع کروائی گئی ہیں جو محکمہ شماریات کے اعدادوشمار سے میل نہیں کھاتیں. ان کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیرخزانہ نے اعتراف کیا ہے کہ ٹماٹر‘پیاز‘آلو جیسی بنیادی اشیاءپر پانچ سے پندرہ فیصدتک ٹیکس عائدہیں‘اس طویل فہرست میں کئی اجناس پر ایک سے زیادہ جبکہ مقامی طورپر پیدا ہونے والی کئی چیزوں پر کسٹم ڈیوٹی اور امپورٹ ڈیوٹی تک وصول کرنے کا اعتراف وزیرموصوف نے کیا ہے. بجٹ کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ بجٹ کے اعدادوشمار پر یقین اس لیے ممکن نہیں حکومت ہر تین ماہ بعد منی بجٹ لے آتی ہے‘انہوں نے انکشاف کیا کہ بجٹ میں اعلان کردہ ٹیکسوں کو صدر کی جانب سے فنانس بل منظورکیئے جانے سے پہلے ہی نافذکرکے اس کی وصولی شروع کردی جاتی ہے یہ پیسہ کہاں جاتا ہے اس کا جواب کسی کے پاس نہیں. انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مالی سال یکم جولائی کو شروع ہوتا ہے قانونی طورپر بجٹ میں اعلان کردہ نئے ٹیکسوں ‘ڈیوٹیزاور لیویزکا نفاذاگلے مالی سال کے لیے ہوتا ہے تاہم طویل عرصے سے روایت چلی آرہی ہے کہ بجٹ میں اعلان کردہ بیشترٹیکس ایف بی آر اسی دن ایک ایس آراو جاری کرکے وصول کرنا شروع کردیتا ہے جس دن وزیرخزانہ بجٹ تقریرمیں ان کا اعلان کرتے ہیں آئینی وقانونی لحاظ سے ایف بی آر کا یہ اقدام غیرقانونی ہے تاہم آج تک کسی حکومت یا عدالت نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے اس بارے میں جواب طلبی نہیں کی اربوں روپے کی یہ کھلی ڈکیتی ہر سال ہوتی ہے مگر حکومتیں اور عدالتیں خاموشی سے تماشہ دیکھتی ہیں جو شرمناک رویہ ہے.
مزید اہم خبریں
-
آئندہ بجٹ میں کرپٹو صارفین پر 30 فیصد تک ٹیکس لگانے کی تجویز
-
پنجاب میں بادل برسنے کو تیار؛ آج سے 5 جون تک کئی اضلاع میں آندھی اور ژالہ باری کا امکان
-
’میں نہ ہوتا تو تم جیل میں سڑ رہے ہوتے‘ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو پاگل قرار دے دیا
-
امریکی ریاست میں آئیووا میں مسلح شخص کی 2 بچوں سمیت خاندان کے 6 افراد کو قتل کرکے خودکشی
-
حکومت کا پٹرول اور ڈیزل کے بعد گیس پر بھی لیوی ٹیکس لگانے پرغور
-
نواز شریف کو گلگت بلتستان دورے کی اجازت مل گئی، این او سی جاری
-
پراپرٹی ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
-
ملک میں گدھوں اور خچروں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگیا
-
کویتی ایئر ڈیفنس نے نئے میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنا دیے
-
آئندہ بجٹ تاجروں اور صنعتکاروں کے لیے ریلیف کا باعث ہوگا ،وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی
-
فلموں کا بننا ضروری، سینما انڈسٹری کی بحالی کیلئے اقدامات کر رہے ہیں‘ عظمیٰ بخاری
-
خیبر پختونخوا میں کم عمری کی شادیوں کے خاتمے کا مطالبہ؛ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل فوری اسمبلی میں پیش کرنے پر زور
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.