Live Updates

ملک میں مہنگائی میں اضافہ 2 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

حکومت ٹماٹر‘پیاز‘آلو جیسی بنیادی اشیاءپر پانچ سے پندرہ فیصدتک ٹیکس وصول کررہی ہے اس کے باوجود اخراجات پورے نہیں ہورہے‘حکومت اپنے اخراجات کو کم کرئے.معاشی ماہرین

Mian Nadeem میاں محمد ندیم پیر 1 جون 2026 18:07

ملک میں مہنگائی میں اضافہ 2 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔یکم جون ۔2026 ) ملک میں مہنگائی میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو 2 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ادارہ شماریات کی ماہانہ رپورٹ کے مطابق رواں سال مئی 2026 میں افراطِ زر کی سالانہ شرح بڑھ کر 11.66 فیصد ہو گئی ہے جو جون 2024 کے بعد 23 ماہ کی بلند ترین سطح ہے. اپریل کے مقابلے مئی میں مہنگائی کی شرح میں 0.52 فیصد اضافہ ہوا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اپریل 2026 میں سالانہ مہنگائی کی شرح 10.89 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی جبکہ مئی 2025 میں یہ شرح 3.5 فیصد تھی ادارہ شماریات کے مطابق جولائی 2025 تا مئی 2026 اوسط مہنگائی 6.69 فیصد رہی مئی 2026 میں شہروں میں ماہانہ بنیاد پر مہنگائی میں 0.68 فیصد اضافہ ہوا جبکہ دیہی علاقوں میں یہ شرح 0.30 فیصد بڑھی.

(جاری ہے)

سالانہ بنیاد پر دیہی علاقوں میں مہنگائی کی شرح 11.48 فیصد اور شہری علاقوں میں 11.79 فیصد ریکارڈ کی گئی ملک میں مہنگائی کی مجموعی سالانہ شرح 14.47 فیصد پر آ گئی، ہفتہ وار مہنگائی میں 0.33 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے مئی کی ماہانہ رپورٹ میں وفاقی ادارہ شماریات نے کہا تھا کہ 1 ہفتے میں 26 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جبکہ 11 اشیاءسستی اور 14 کی قیمتیں مستحکم رہیں.

ہفتہ وار رپورٹ میں کہا گیا تھا 1 ہفتے میں ٹماٹر 7.17 فیصد، پیاز 6.08 فیصد، آٹے کی قیمتوں میں 1.84 فیصد اور آلو کی قیمتوں میں0.87 فیصد اضافہ ہوا جبکہ لہسن، دالیں، انڈے اور کیلے سستے ہوئے ادارہ شماریات کا کہنا ہے کہ کوکنک آئل، چائے اور دہی سمیت دیگر کئی اشیاءمہنگی ہوئیں جبکہ ایک ہفتے میں چکن کا گوشت 8.56 فیصد سستا ہوا . ادھر شہری حلقوں نے سرکاری اعدادوشمار کو مستردکرتے ہوئے کہاہے کہ مہنگائی کی شرح حکومتی اعدادوشمار سے کہیں زیادہ ہے معاشی ماہرین بھی اس سے اتفاق کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ حال ہی میں قومی اسمبلی میں وزیرخزانہ کی جانب سے جمع کروائے گئے ایک جواب میں کھانے پینے کی بنیادی اشیاءپر عائدٹیکسوں کی تفصیلات جمع کروائی گئی ہیں جو محکمہ شماریات کے اعدادوشمار سے میل نہیں کھاتیں.

ان کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیرخزانہ نے اعتراف کیا ہے کہ ٹماٹر‘پیاز‘آلو جیسی بنیادی اشیاءپر پانچ سے پندرہ فیصدتک ٹیکس عائدہیں‘اس طویل فہرست میں کئی اجناس پر ایک سے زیادہ جبکہ مقامی طورپر پیدا ہونے والی کئی چیزوں پر کسٹم ڈیوٹی اور امپورٹ ڈیوٹی تک وصول کرنے کا اعتراف وزیرموصوف نے کیا ہے. بجٹ کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ بجٹ کے اعدادوشمار پر یقین اس لیے ممکن نہیں حکومت ہر تین ماہ بعد منی بجٹ لے آتی ہے‘انہوں نے انکشاف کیا کہ بجٹ میں اعلان کردہ ٹیکسوں کو صدر کی جانب سے فنانس بل منظورکیئے جانے سے پہلے ہی نافذکرکے اس کی وصولی شروع کردی جاتی ہے یہ پیسہ کہاں جاتا ہے اس کا جواب کسی کے پاس نہیں.

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مالی سال یکم جولائی کو شروع ہوتا ہے قانونی طورپر بجٹ میں اعلان کردہ نئے ٹیکسوں ‘ڈیوٹیزاور لیویزکا نفاذاگلے مالی سال کے لیے ہوتا ہے تاہم طویل عرصے سے روایت چلی آرہی ہے کہ بجٹ میں اعلان کردہ بیشترٹیکس ایف بی آر اسی دن ایک ایس آراو جاری کرکے وصول کرنا شروع کردیتا ہے جس دن وزیرخزانہ بجٹ تقریرمیں ان کا اعلان کرتے ہیں آئینی وقانونی لحاظ سے ایف بی آر کا یہ اقدام غیرقانونی ہے تاہم آج تک کسی حکومت یا عدالت نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے اس بارے میں جواب طلبی نہیں کی اربوں روپے کی یہ کھلی ڈکیتی ہر سال ہوتی ہے مگر حکومتیں اور عدالتیں خاموشی سے تماشہ دیکھتی ہیں جو شرمناک رویہ ہے. 
Live بجٹ 27-2026ء سے متعلق تازہ ترین معلومات