قراقرم ہائی وے کے متبادل 172 کلومیٹر طویل نئے موٹروے منصوبے کی منظوری

مانسہرہ سے چلاس تک کا فاصلہ 120 کلومیٹر کم ہو جائے گا، پاکستان کی طویل ترین بابوسر ٹنل بھی بنے گی

Sajid Ali ساجد علی بدھ 3 جون 2026 12:23

قراقرم ہائی وے کے متبادل 172 کلومیٹر طویل نئے موٹروے منصوبے کی منظوری
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جون2026ء) وفاقی حکومت نے قراقرم ہائی وے کے متبادل کے طور پر نئے موٹروے منصوبے کی باقاعدہ منظوری دے دی، جس سے ناصرف سفری فاصلے میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ پاکستان اور چین کے مابین تجارتی رابطوں کو بھی ایک نئی تیزی ملے گی۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان نے قراقرم ہائی وے کے متبادل کے طور پر مانسہرہ، کاغان، ناران، جل کھنڈ اور چلاس کے راستے ایک نئے موٹروے کی تعمیر کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے، یہ منظوری نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ایک اہم اجلاس کے دوران دی گئی، جس میں سیکریٹری مواصلات اور چیئرمین این ایچ اے ریٹائرڈ کیپٹن اسد اللہ خان نے بھی شرکت کی اور جاری و مجوزہ انفراسٹرکچر منصوبوں کا جائزہ لیا۔

اجلاس کے دوران حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس نئے منصوبے کا نام مانسہرہ ناران چلاس موٹروے ہوگا، جس کی کل لمبائی 172 کلومیٹر ہوگی، نئی موٹروے قراقرم ہائی وے پر موجودہ سفری فاصلے کو 120 کلومیٹر تک کم کر دے گی، جس سے وقت اور ایندھن کی بھاری بچت ہوگی، اس میگا پراجیکٹ کو دو مختلف فیزز میں تیار کیا جائے گا، پہلا مرحلے کا روٹ مانسہرہ سے شروع ہو کر کاغان، ناران اور بابوسر ٹاپ تک جائے گا جب کہ دوسرے مرحلے میں اس روٹ کو بابوسر ٹاپ سے آگے چلاس تک وسیع کیا جائے گا۔

(جاری ہے)

بتایا گیا ہے کہ اس موٹروے منصوبے کے اندر کئی اہم اور جدید خصوصیات شامل کی گئی ہیں، اس پراجیکٹ کا سب سے اہم حصہ 13.5 کلومیٹر طویل بابوسر ٹنل کی تعمیر ہے، جو مکمل ہونے کے بعد پاکستان کی تاریخ کی سب سے طویل ترین سرنگ بن جائے گی، ابتدائی طور پر اس موٹروے کو 4 لینز پر مشتمل بنایا جائے گا، تاہم مستقبل میں اسے 6 لینز تک وسیع کرنے کی گنجائش بھی رکھی جائے گی، مسافروں کی سہولت کے لیے ہر 25 سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر جدید ترین ریسٹ ایریاز بنائے جائیں گے، تجارتی سامان کی نقل و حمل کے لیے روٹ کے دونوں سروں پر فریٹ ٹرمینلز بھی ہوں گے۔

وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ موٹروے پاکستان اور چین کے درمیان رابطوں کو مزید مستحکم اور بہترین بنائے گا، یہ نیا راستہ کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں کو مغربی چین سے جوڑنے کے لیے ایک چھوٹا، تیز رفتار اور انتہائی مؤثر ذریعہ ثابت ہوگا، این ایچ اے کے حکام اس منصوبے کی تمام تکنیکی ضروریات اور پلاننگ کا کام مقررہ وقت کے اندر اندر مکمل کریں۔