کینیڈا ، 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی، اے آئی چیٹ بوٹس کے ضابطے کے لیے قانون متعارف

جمعرات 11 جون 2026 12:12

کینیڈا ، 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی، اے آئی چیٹ ..
اوٹاوا (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 11 جون2026ء) کینیڈا کی حکومت نے نیا ڈیجیٹل سیفٹی بل پارلیمنٹ میں پیش کیا ہے جس کے تحت 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے، البتہ ایسے پلیٹ فارمز کو استثنا دیا جا سکے گا جو مخصوص حفاظتی معیار پر پورا اتریں۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق کینیڈا کے وزیر برائے شناخت و ثقافت مارک ملر نے گزشتہ روز بتایا کہ اس بل کا مقصد مصنوعی ذہانت (AI) چیٹ بوٹس کو بھی زیادہ محفوظ بنانا ہے،اس کے لیے ایک ڈیجیٹل ریگولیٹر قائم کیا جائے گا جو حفاظتی معیار طے کرے گا،قانون کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں کو ان کی عالمی آمدنی کے 3 فیصد یا ایک کروڑ کینیڈین ڈالر (تقریباً 72 لاکھ امریکی ڈالر) تک جرمانہ کیا جا سکے گا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور اے آئی چیٹ بوٹس صارفین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں، یہ بچوں کی صحت مند نشوونما میں مددگار نہیں اور بہت سے نوجوان کینیڈینز کے لیے بے چینی، تنہائی، ڈپریشن اور دیگر ذہنی صحت کے مسائل کا سبب بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ قانون سازی نوجوانوں کے لیے زیادہ محفوظ ماحول فراہم کرے گی تاکہ وہ لوگوں سے براہ راست رابطے بنائیں ، تعلیم پر توجہ دے سکیں اور عملی مہارتیں سیکھ سکیں۔

یہ بل ایسے وقت میں پیش کیا گیا ہے جب حال ہی میں کینیڈا میں بدترین اجتماعی فائرنگ سے متاثرہ خاندانوں نے OpenAI کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔ مقدمے میں الزام لگایا گیا ہے کہ کمپنی کو مبینہ حملہ آور کے منصوبوں کا علم تھا لیکن اس نے پولیس کو آگاہ نہیں کیا۔حکومتی حکام نے ٹیکنیکل بریفنگ میں بتایا کہ اس بل کو قانون بننے میں تقریباً ایک سال لگ سکتا ہے جبکہ منظوری کے بعد ڈیجیٹل ریگولیٹر کے قیام میں مزید 18 ماہ درکار ہوں گے۔

گوگل جو YouTube کا مالک ہے، نے کہا کہ وہ حکومت کے ساتھ مل کر تمام پلیٹ فارمز کے لیے بہتر حفاظتی معیارات قائم کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ والدین اپنے بچوں کے لیے زیادہ محفوظ آن لائن تجربات کا انتخاب کر سکیں۔ اسی طرح میٹا جو فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک ہے، نے کہا کہ وہ ڈیجیٹل سیفٹی ایکٹ کی تفصیلات کا جائزہ لے رہی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ دسمبر میں آسٹریلیا دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کی۔

قانون نافذ ہونے کے ایک ماہ بعد سوشل میڈیا کمپنیوں نے تقریباً 50 لاکھ نوجوانوں کے اکاؤنٹس بند کر دیےتھے۔ اسی طرح فرانس ،ڈنمارک اور پولینڈ بھی بچوں کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق قوانین سخت کرنے پر غور کر رہے ہیں جبکہ یونان نے اعلان کیا ہے کہ جنوری 2027 سے 15 سال سے کم عمر بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی محدود کر دی جائے گی۔