ٴالخدمت اسلامک مائیکروفنانس کی سالانہ تین روزہ اسٹریٹجک پرفارمنس اینڈ پلاننگ کانفرنس اختتام پذیر

پیر 15 جون 2026 22:06

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 15 جون2026ء) الخدمت اسلامک مائیکروفنانس کی تین روزہ سالانہ اسٹریٹجک پرفارمنس اینڈ پلاننگ کانفرنس 2026 لاہور میں اختتام پذیر ہوگئی۔ کانفرنس میں پاکستان بھر سے ریجنل کوآرڈینیٹرز، پروگرام منیجرز، فیلڈ نمائندگان، معاشی ماہرین اور دیگر ذمہ داران نے شرکت کی۔ "اس موقع پر الخدمت فاؤنڈیشن کے نائب صدور ابرار احمد مگوں اور ذکراللہ مجاہد، پاکستان انٹرنیشنل بزنس فورم کے صدر ڈاکٹر مشتاق مانگٹ، الخدمت اسلامک مائیکروفنانس کے سی ای او عثمان نعیم ملک، ڈائریکٹر میاں بابر حمید، چیف فنانشل آفیسر رمیز راجہ سمیت دیگر ذمہ داران اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے شرکت کی۔

کانفرنس کیدوران الخدمت اسلامک مائیکروفنانس کی مجموعی کارکردگی، مستقبل کی حکمت عملی، فنڈ ریزنگ، کمیونٹی ڈویلپمنٹ، قرضوں کی فراہمی و واپسی کے نظام، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور آئندہ اہداف کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

(جاری ہے)

شرکاء نے اسلامک مائیکروفنانس کے ذریعے غربت کے خاتمے، خود روزگاری کے فروغ اور معاشی طور پر کمزور طبقات کو بااختیار بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر الخدمت فاؤنڈیشن ابرار احمد مگوں نے کہا کہ الخدمت اسلامک مائیکروفنانس گزشتہ 14 برسوں کے دوران 25 ہزار 132 خاندانوں کو معاشی خود کفالت کی راہ پر گامزن کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ اپنے قیام سے اب تک 1 ارب 17 کروڑ 40 لاکھ روپے سے زائد کے بلا سود قرضے فراہم کر چکا ہے، جن کے ذریعے ہزاروں خاندان معاشی مشکلات سے نکل کر خود انحصاری کی جانب بڑھے ہیں۔

ابرار احمد مگوں نے کہا کہ الخدمت کا اسلامک مائیکروفنانس پروگرام صرف قرضوں کی فراہمی تک محدود نہیں بلکہ معاشی بااختیاری اور سماجی تبدیلی کا ایک مؤثر ذریعہ بھی ہے۔ انھوں نے کہاکہ ہر قرض ایک خاندان کو محرومی سے خود کفالت کی جانب لے جانے کی کوشش ہے۔ابرار احمد مگوں نے کہا کہ الخدمت کی جانب سے جاری کیے گئے بلا سود قرضوں کی تقریباً 98 فیصد شرحِ واپسی پروگرام کی ایک بڑی کامیابی ہے، جو پروگرام کی کامیابی ، مؤثر نگرانی اور ادارے کے شفاف نظام کی عکاسی کرتی ہے۔

ابرار احمد مگوں نے بتایا کہ ادارہ اس وقت پاکستان بھر میں 28 کمیونٹی کلسٹرز کے ذریعے غربت کے خاتمے اور پائیدار معاشی ترقی کے مشن پر کام کر رہا ہے۔ ان کلسٹرز کے ذریعے قرضوں کی فراہمی کے ساتھ ساتھ مستفیدین کی رہنمائی، استعدادِ کار میں اضافہ اور کمیونٹی کی سطح پر معاشی استحکام کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ذکر اللہ مجاہد ،ڈاکٹرمحمدمشتاق مانگٹ ودیگر مقررین نے کہا کہ غربت کے خاتمے کے لیے صرف مالی معاونت کافی نہیں بلکہ استفادہ کرنے والوں کی مسلسل تربیت، رہنمائی، نگرانی اور سماجی معاونت بھی ناگزیر ہے۔

اس مقصد کے لیے الخدمت اسلامک مائیکرو فنانس اپنے کمیونٹی ڈویلپمنٹ ماڈل کو مزید مؤثر بنانے اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے اقدامات جاری رکھے گا۔کانفرنس میں مختلف ریجنز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ مالی سال 2026-27 کے لیے مالیاتی، آپریشنل اور سماجی اہداف بھی مقرر کیے گئے۔ شرکائ نے فنڈ ریزنگ کے نئے مواقع تلاش کرنے، قرضوں کی فراہمی کے عمل کو مزید مؤثر بنانے، مستحق خاندانوں تک رسائی بڑھانے اور جدید ڈیجیٹل نظام کے استعمال کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔

مقررین نے کہا کہ پاکستان میں لاکھوں خاندان ایسے ہیں جو معمولی مالی معاونت اور درست رہنمائی کے ذریعے غربت کے دائرے سے نکل سکتے ہیں۔ الخدمت اسلامک مائیکروفنانس اسی وڑن کے تحت کام کر رہی ہے اور آئندہ برسوں میں مزید علاقوں اور مستحق خاندانوں تک اپنی خدمات پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔کانفرنس کے اختتام پر شرکائ میں اسناد تقسیم کی گئیں۔

اس موقع پر تنظیمی بہتری، کمیونٹی ڈویلپمنٹ اور خدمتِ خلق کے حوالے سے پیش کیے جانے والے بہترین اختراعی خیالات کو بھی سراہا گیا۔ اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ الخدمت اسلامک مائیکروفنانس اسلامی اصولوں کے مطابق بلا سود مالی معاونت کے ذریعے معاشرے کے کمزور طبقات کو بااختیار بنانے، غربت کے خاتمے، خود روزگاری کے فروغ اور ایک خود کفیل و خوشحال پاکستان کی تعمیر کے لیے اپنی کاوشیں مزید تیز کرے گی۔