میر رضا کیس کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن قائم، کوتاہی ثابت ہوئی تو کارروائی ہوگی، میئر کراچی

پیر 24 اگست 2026 21:18

میر رضا کیس کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن قائم، کوتاہی ثابت ہوئی تو ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 اگست2026ء) میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ میررضا کیس کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنادیا ہے کمیشن جب رپورٹ دے گا اس میں پولیس یا ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ جس کی بھی کوتاہی ہوگی اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔میئر نے کہا کہ پہلا پوسٹ مارٹم کرنے والے سرجن اسامہ کو پولیس نے بلایا ہے اور ان کا 161 کا بیان ریکارڈ ہوا ہے، پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ کا بیان بھی لیا ہے، پولیس ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کو بھی دیکھ رہی ہے، جوڈیشل کمیشن جب اپنی فائنڈنگ دے گا تو معاملہ سامنے ا?جائے گا، ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ یا پولیس، جس نے بھی حقائق چھپائے ہوئی اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔

میر رضا کیس کے حوالے سے پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ ایڈیشنل آئی جی کراچی نے کیس کے لیے خصوصی ٹیم بنا کر تفتیش کروائی، ایم ایل او کی رپورٹ پولیس کے ساتھ شئیر کی گئی، پولیس سرجن صاحبہ نے کچھ شکوک ظاہر کیے، ایک عام بات سامنے آتی ہے کہ پولیس اپنا کام صحیح نہیں کررہی، نو اگست کو ڈی آئی جی عامر فاروقی صاحب نے تفتیش شروع کی، پہلی تفتیشی ٹیم کے کردار کے حوالے سے سوال اٹھائے گئے، حکومت اور پولیس کوئی بھی کچھ بات کرتے تو وہ قابل قبول نہیں ہوتا اسی لیے فیصلہ کیا گیا کہ جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے۔

(جاری ہے)

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ میں، وزیر داخلہ اور ایڈیشنل آئی جی مرحوم کے گھر جاتے ہیں ان کو یہ بات کہہ جاتی ہے کہ حکومت اس معاملے کی تہہ تک جانا چاہتی ہے، والدین کی موجودگی میں گفتگو ہوتی ہے اور کہتے ہیں ’’ہمیں انصاف چاہیے، ماں تکلیف میں کہتی ہے کہ مجھے انصاف چاہیے پولیس معاملے کو خودکشی کی طرف لے کر جارہی ہے‘‘، یہ سن کر ہم وہاں سے اٹھتے ہیں اور رات کو مرحوم کی والدہ کہتی ہیں کہ ابھی جوڈیشل کمیشن تشکیل نہ دیں، ہم فی الوقت عامر فاروقی سے مطمئن ہیں، وزیر داخلہ اور وزیر اعلی دونوں نے کہا جو اہل خانہ چاہتے ہیں وہی ہوگا، تفتیشی ٹیم کام شروع کرتی ہے 12 اگست سے اہل خانہ کے ساتھ ہر جگہ جانا شروع کیا، اہل خانہ اگر شک کا اظہار کرتی ہے تو اس شخص کو بلا کر تفتیش کی جاتی ہے پھر اہل خانہ کہتے ہیں آئی جی، وزیر داخلہ سب فیل ہوگئے۔

میئر کراچی نے کہا کہ ایک خط وزیراعلی کو موصول ہوتا ہے، 21 اگست کو وزیر اعلی نے ایک میٹنگ کال کی، آئی جی صاحب چیف سیکریٹری وزیر داخلہ اور تفتیشی ٹیم بھی شامل تھی، وزیراعلی نے پولیس سے اب تک کی تفتیش کے حوالے سے سوال کیا اور وکیل کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کے جواباب مانگے گئے اب وکیل صاحب خود کہہ رہے ہیں کہ سب فیل ہوگئے، اس لیے یہ فیصلہ کیا گیا کہ جوڈیشل کمیشن بنایا جائے تاکہ پولیس کی غلطی کوتاہیوں کو بھی سامنے لایا جا سکے چنانچہ کابینہ کی منظوری کے بعد جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور ہفتے کو چیف جسٹس صاحب کو خط لکھا گیا، جسٹس عمر سیال صاحب کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا گیا، تیس دن ہونگے جوڈیشل کمیشن کے پاس وہ تمام معاملے کو دیکھ سکیں اس دوران ہماری پولیس کمیشن کو ہر طرح سپورٹ کرے گی تاکہ حقائق سب جان سکیں۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ اہل خانہ نے اصرار کیا کہ موبائل اور اسمارٹ واچ کی فرانزک رپورٹ پنجاب پولیس سے چاہیے، ایپل اور میٹا سے ڈیٹا لینے کے لیے ڈی آئی جی عامر فاروقی صاحب رابطے میں ہیں پولیس نے اس حوالے سے عدالت سے آرڈر ایشو کروایا ہے۔میئر نے کہا کہ پہلا پوسٹ مارٹم کرنے والے سرجن اسامہ کو پولیس نے بلایا ہے اور ان کا 161 کا بیان ریکارڈ ہوا ہے، پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ کا بیان بھی لیا ہے، پولیس ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کو بھی دیکھ رہی ہے، جوڈیشل کمیشن جب اپنی فائنڈنگ دے گا تو معاملہ سامنے ا?جائے گا، ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ یا پولیس، جس نے بھی حقائق چھپائے ہوئی اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔

صحافی کے سوال پر انہوں ںے کہا کہ نئی تفتیشی ٹیم میں والد کے وکیل کے کہنے پر سراج لاشاری اور محمد علی کو شامل کیا گیا، اہل خانہ کو مطئمن ہوجانا چاہیے، انہوں ںے ا?ئی او مانگا وہ دے دیا، پنجاب فرانزک سے ٹیسٹ کیے، وہ کرادیے، اہل خانہ کو جوڈیشل کمیشن کو اعتماد کرنا پڑے گا، پولیس یا حکومت کے دل میں کچھ ہوتا تو کبھی جوڈیشل انکوائری نہ کراتے، اہل خانہ ججز پر اعتبار کریں، حکومت کی ہر ممکن ترجیح اہل خانہ کو مطمئن کرنا ہے، اہل خانہ اگر پولیس ٹیموں اور جوڈیشل کمیشن کسی سے بھی مطمئن نہیں ہیں تب بھی انکوائری کسی سے تو کرانی ہے۔

مختلف سوالات پر انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی دہشت گردی کے کیسز میں بنی ہے نارمل کرائمز کے لیے نہیں بنتی، اگر اہل خانہ جوڈیشل کمیشن کے نتیجے کو بھی مسترد کرتی ہے تو یہ درست نہیں، ا?خر کار نتیجہ عدالت سے ہی تو ملنا ہے۔مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ پہلی بار میر رضا کے گھر گیا تو والدہ نے کہا کہ بیٹی کے لیے پریشان ہوں، جس پر ہم نے فیملی کو سیکیورٹی فراہم کرنے کی پیشکش کی، اٴْن دونوں گاڑیوں کو چیک کیا گیا جن کی نشاندہی میر رضا کی بہن نے کی تھی انویسٹی گیشن کی ان گاڑیوں میں کچھ مشتبہ چیز نہیں ملی، ہم اب بھی فیملی کو کہتے ہیں کہ جو تحفظات ہیں آپ ان سے آگاہ کریں ہم تحفظ دیں گے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ فارنزک سسٹم 2022ء سے سافٹ ویئر خرابی کے باعث غیر فعال ہے، فرانزک سسٹم کی بحالی سے متعلق معلومات فوری طور پر دستیاب نہیں، آئی جی سندھ سے تفصیلات لے کر آگاہ کروں گا۔