یورپی یونین اور برطانیہ کےخصوصی نمائندوں نے ٹی ٹی پی کے خلاف پاکستان کے حقِ دفاع کی توثیق کر دی
بدھ 24 جون 2026 23:52
(جاری ہے)
خصوصی نمائندوں نے زور دیا کہ کابل اور قندھار میں اس وقت اقتدار پر قابض حکام ان سرگرمیوں کی مکمل ذمہ داری اٹھاتے ہوئے اور انہیں فوری اور مؤثر اقدامات کرنے چاہییں تاکہ افغان سرزمین کو پڑوسی ممالک کے خلاف استعمال ہونے سے روکا جا سکے۔
ٹی ٹی پی افغانستان کے اندر موجود تربیتی مراکز، اسلحے کی ترسیل کے نیٹ ورکس اور محفوظ ٹھکانوں کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی سکیورٹی کارروائیوں سے بچ نکلتی ہے، جس سے علاقائی امن و استحکام کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ جب پاکستان کے ان خطرات کے خلاف فوجی ردعمل کے بارے میں سوال کیا گیا تو دونوں نمائندوں نے واضح طور پر پاکستان کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی ریاست کو کسی فعال اور حقیقی خطرے کے واضح شواہد موجود ہوں تو اسے اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔طالبان حکومت کے بارے میں بین الاقوامی برادری کی بڑھتی ہوئی مایوسی ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب اطلاعات کے مطابق طالبان عالمی سلامتی سے متعلق اپنی ذمہ داریوں پر عملدرآمد میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔ دوحہ معاہدے کے تحت طالبان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ دہشت گرد گروہوں کو پناہ نہیں دیں گے اور افغان سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ تاہم، اقتدار سنبھالنے کے تقریباً پانچ سال بعد طالبان نے اپنے تقریباً تمام بڑے سیاسی، سکیورٹی اور حکمرانی سے متعلق وعدوں کی خلاف ورزی کی ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹس کے مطابق طالبان کی نگرانی میں 20 سے زائد دہشت گرد تنظیمیں آزادانہ طور پر سرگرم ہیں، جبکہ دہشت گرد جنگجوؤں کی تعداد 13 ہزار سے 23 ہزار کے درمیان بتائی جاتی ہے، جن میں ٹی ٹی پی، القاعدہ، داعش خراسان (ISKP)، ای ٹی آئی ایم (ETIM)، آئی ایم یو (IMU) اور جماعت انصاراللہ شامل ہیں۔طالبان کے انسدادِ دہشت گردی کے دعوے اس وقت مکمل طور پر بے نقاب ہو گئے جب القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کابل کے قلب میں واقع طالبان کے زیرِ کنٹرول ایک محفوظ ٹھکانے میں پائے گئے اور بعد ازاں مارے گئے۔ اس واقعے نے ثابت کر دیا کہ دنیا کے انتہائی مطلوب دہشت گردوں کو موجودہ طالبان حکومت کے تحت محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہیں۔ٹی ٹی پی کے ذریعے عدم استحکام پیدا کرنے کے علاوہ طالبان حکومت نے ملک کے اندر ریاستی سرپرستی میں امتیازی سلوک اور جبر کا ایک سخت نظام قائم کر رکھا ہے۔ حکومت 230 سے زائد ایسے احکامات جاری کر چکی ہے جن کے ذریعے خواتین اور لڑکیوں کو ان کے بنیادی انسانی حقوق سے محروم کیا گیا ہے، جسے بین الاقوامی ماہرین "صنف پر مبنی نسلی امتیاز قرار دیتے ہیں۔22 لاکھ سے زائد افغان لڑکیاں اب بھی ثانوی اور اعلیٰ تعلیم سے محروم ہیں، جبکہ خواتین کو ملازمت، آزادانہ نقل و حرکت اور عوامی زندگی میں شرکت پر تقریباً مکمل پابندیوں کا سامنا ہے۔داخلی بدانتظامی نے ملک کو شدید انسانی بحران میں دھکیل دیا ہے، جہاں 2 کروڑ 10 لاکھ افغان شہری امداد کے شدید محتاج ہیں اور تقریباً 65 فیصد آبادی حکومت کی امتیازی اور نظریاتی پالیسیوں کے باعث کثیر جہتی غربت کا شکار ہے۔بین الاقوامی خصوصی نمائندوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی سفارتی روابط طالبان کے دہشت گردی اور جبر کے ریکارڈ کو مٹا نہیں سکتے۔ انہوں نے واضح انتباہ کیا کہ قابلِ تصدیق اصلاحات کے بغیر طالبان کو رعایتیں دینا عالمی انسدادِ دہشت گردی کے نظام کو کمزور کرتا ہے اور اس انتہا پسند حکومت کو اس کی مسلسل خلاف ورزیوں پر جوابدہ ٹھہرانے میں ناکامی کا باعث بنتا ہے۔مزید قومی خبریں
-
لاہور ہائیکورٹ: پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کیخلاف نئی درخواست دائر
-
تھور ،اچانک کلائوڈ برسٹ کے نتیجے میں سیلابی ریلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی
-
مشرقِ وسطیٰ میں مفاہمت پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی، قومی اتحاد وقت کی ضرورت ہے، آفتاب شیرپاؤ
-
موسیٰ خیل ،کنگری میں دو روز کے دوران زلزلے کے متعدد جھٹکوں سے 110 سے زائد مکانات جزوی ،18 افراد زخمی
-
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا شعیب اختر کے بھائی کی وفات پر تعزیت کا اظہار
-
الحمدللہ بلوچستان بھر میں محرم الحرام کے حوالے سے تمام مجالس اور جلوس پرامن ماحول میں خیر و عافیت سے اختتام پذیر ہوئے ،وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی
-
سرکاری ریٹ لسٹ پر 100فیصد عملدرآمد یقینی بنانے کے احکامات
-
صوبہ بھر میں 249 شبیہ ذوالجناح کا معائنہ و علاج کیا گیا
-
اگست 2025 سے اب تک 24.5 ٹن منشیات کی سپلائی کو ناکام بنا یا گیا‘ بریگیڈئیر مظہر اقبال
-
مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی سے چاول کی برآمدات متاثر، رائس ایکسپورٹرز کاڈی ایل ٹی ایل اسکیم میں توسیع کا مطالبہ
-
شہدائے کربلا کی قربانی حق و استقامت کی لازوال مثال ہے، گورنر پنجاب
-
فیصل کریم کنڈی کا بلوچستان کے اضلاع خاران اور مستونگ میں سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیوں پر خراجِ تحسین
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.