Live Updates

ایران امریکا معاہدے کے بعد ایرانی ریال میں تیزی، سرمایہ کار متحرک، مگر خطرات برقرار

سرمایہ کار طویل المدتی منصوبہ بندی کے بجائے مختصر مدت کی سرمایہ کاری کو ترجیح دیں، ملک بوستان

جمعرات 25 جون 2026 20:59

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 جون2026ء) ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے اور ایران پر عائد امریکی معاشی پابندیوں کے خاتمے کی توقعات کے باعث ایرانی کرنسی ریال کی قدر میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے، جس کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی بھی بڑھ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایرانی ریال میں سرمایہ کاری منافع بخش ثابت ہو سکتی ہے، تاہم اس سے وابستہ خطرات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

چیئرمین ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان ملک بوستان نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی ریال کی قدر میں حالیہ اضافہ بنیادی طور پر ایران پر سے پابندیاں ہٹنے اور معاشی بحالی کی توقعات کا نتیجہ ہے۔انہوں نے یاد دلایا کہ 2016 میں امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں جب ایران پر سے جزوی پابندیاں ہٹائی گئی تھیں تو ایک کروڑ ایرانی ریال کی مالیت 10 سے 12 ہزار پاکستانی روپے تھی، جو بعد ازاں بڑھ کر تقریبا 60 ہزار روپے تک پہنچ گئی تھی۔

(جاری ہے)

ان کے مطابق اگر 2018 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دوبارہ پابندیاں عائد نہ کی جاتیں تو اس کی قیمت مزید بڑھ سکتی تھی۔ملک بوستان نے بتایا کہ حالیہ کشیدگی اور جنگی خدشات کے دوران ایک کروڑ ایرانی ریال کی قیمت کم ہو کر تقریبا دو ہزار پاکستانی روپے تک آگئی تھی، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمت اور مفاہمتی یادداشت (ایم او یو)پر دستخط کے بعد اس کی قیمت دوبارہ بڑھ کر چار ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر ایران پر سے پابندیاں مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہیں اور منجمد اثاثے بحال ہو جاتے ہیں تو ایرانی ریال کی قدر دوبارہ 60 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک جا سکتی ہے، اسی امید کے تحت مارکیٹ میں خریداری کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ تاہم اس سرمایہ کاری میں زیادہ تر چھوٹے سرمایہ کار دلچسپی لے رہے ہیں۔ملک بوستان نے خبردار کیا کہ ایرانی ریال میں سرمایہ کاری مکمل طور پر حالات پر منحصر ہے۔

اگر معاہدہ ناکام ہو جاتا ہے یا خطے میں دوبارہ کشیدگی پیدا ہوتی ہے تو ریال کی قدر دوبارہ گر کر دو ہزار روپے تک آ سکتی ہے، جبکہ معاہدے کی کامیابی کی صورت میں اس میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔انہوں نے سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا کہ وہ طویل المدتی منصوبہ بندی کے بجائے مختصر مدت کی سرمایہ کاری کو ترجیح دیں۔ ان کے مطابق موجودہ سطح پر خریداری کرکے قیمت 6 سے 8 ہزار روپے تک پہنچنے پر فروخت کی جائے تو مناسب منافع حاصل کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے عوام کو محتاط رہنے اور محدود سرمایہ کاری کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ 10 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک کی سرمایہ کاری نسبتا محفوظ حکمت عملی ہو سکتی ہے۔ملک بوستان کا کہنا تھا کہ ایران پر سے پابندیاں ختم ہونے کی صورت میں پاکستان اور ایران کے درمیان اقتصادی تعاون کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی بحالی سے پاکستان کے توانائی کے اخراجات میں نمایاں کمی آسکتی ہے، جبکہ ایران کی بڑی مارکیٹ پاکستانی برآمدات اور افرادی قوت کے لیے بھی نئے مواقع فراہم کرے گی۔

معاشی ماہرین کے مطابق ایرانی ریال میں حالیہ تیزی سرمایہ کاروں کی امیدوں کا مظہر ہے، تاہم مستقبل کا انحصار ایران اور امریکا کے تعلقات، پابندیوں کے خاتمے اور خطے کی مجموعی سیاسی صورتحال پر ہوگا۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات