کراچی چیمبرکا سوئی سدرن گیس کے پائپ لائن کاموں کی تکمیل کے بعد سڑکوں کی عدم بحالی پر اظہار تشویش

پیر 29 جون 2026 21:57

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 29 جون2026ء) بزنس مین گروپ (بی ایم جی) کے چیئرمین زبیر موتی والا اور کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے صدر محمد ریحان حنیف نے سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کی جانب سے کراچی کے مختلف علاقوں میں گیس پائپ لائنوں کی تنصیب، تبدیلی، بحالی اور اپ گریڈیشن کے لیے کی جانے والی بڑے پیمانے پر سڑکوں کی کھدائی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تاجر برادری گیس کے انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنے، معیاری خدمات یقینی بنانے، حفاظتی تقاضے پورے کرنے اور گیس کے ضیاع کو کم کرنے کی ضرورت سے مکمل اتفاق کرتی ہے تاہم جس انداز سے یہ کام انجام دیا جا رہا ہے اس نے کراچی کے شہریوں اور تاجروں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔

(جاری ہے)

زبیر موتی والا اور ریحان حنیف نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو ارسال خط میں نشاندہی کی کہ گزشتہ کئی ماہ سے شہر کے کئی تجارتی، صنعتی اور رہائشی علاقوں میں پائپ لائن کے کاموں کے لیے سڑکیں کھودی گئی ہیں مگر پائپ لائن کی تنصیب کی تکمیل کے بعد ان میں سے کئی سڑکوں کو نہ تو دوبارہ تعمیر کیا گیا اور نہ ہی ان کی حالت طویل عرصے سے بہتر کی گئی جس کے نتیجے میں مسافروں، ٹرانسپورٹرز، رہائشیوں اور کاروباری اداروں کو روزانہ ہی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹوٹی پھوٹی اور خراب سڑکوں کی وجہ سے پورے شہر میں ٹریفک جام کی صورتحال مزید سنگین ہو چکی ہے،سفر کا دورانیہ اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھ گئے ہیں، گاڑیوں کو نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ موٹر سواروں، موٹر سائیکل چلانے والوں، پیدل چلنے والوں اور اسکول جانے والے بچوں کی جان و مال کو بھی سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔یہ صورتحال بالخصوص تجارتی و صنعتی علاقوں میں انتہائی تشویشناک ہے جہاں سامان کی ترسیل، ملازمین، صارفین اور سپلائرز کی آمدورفت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چونکہ کراچی پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے اس لیے نقل و حمل میں کوئی بھی رکاوٹ براہ راست کاروباری سرگرمیوں اور پیداواری صلاحیتوں پر اثر انداز ہوتی ہے جو مجموعی قومی معیشت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔انہوں نے کہاکہ تاجر برادری یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ سڑکوں کی اتنے بڑے پیمانے پر کھدائی کی اجازت ایسے مؤثر اور قابل عمل نظام کے بغیر کیسے دی جا سکتی ہے جو متاثرہ سڑکوں کی بروقت تعمیر نو اور بحالی کو یقینی بنائے۔

یہ امر بھی ناقابل فہم ہے کہ عوامی وسائل سے تعمیر ہونے والی سڑکوں کو بڑے پیمانے پر کھود کر یوٹیلٹی کام کی تکمیل کے بعد مہینوں تک انہیں لاوارث چھوڑ دیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال ایسے منصوبوں کو کنٹرول کرنے والے ریگولیٹری فریم ورک، معاہداتی ذمہ داریوں اور اور ادارہ جاتی جواب دہی کے بارے میں سنجیدہ سوالات اٹھا رہی ہے۔

چیئرمین بی ایم جی اور صدر کے سی سی آئی نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا کہ وہ واضح کرے کہ ایس ایس جی سی کو شہر بھر میں سڑکیں کھودنے کی اجازت کن شرائط و ضوابط کے تحت دی گئی اور کیا ان اجازت ناموں میں یہ لازمی شرط شامل ہے کہ کمپنی پائپ لائن کی تکمیل کے فوراً بعد سڑکوں کو اصل حالت میں بحال کرے گی۔انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر سڑکوں کی بحالی براہ راست ایس ایس جی سی کی ذمہ داری نہیں ہے تو پھر یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ یہ ذمہ داری کس ادارے کو سونپی گئی ہے اور بحالی کے کاموں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے کیا طریقہ کار موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق سڑکوں کی کھدائی کی اجازت دینے سے پہلے یوٹیلیٹی کمپنیوں سے روڈ کٹنگ اور بحالی کی مد میں بھاری رقوم وصول کی جاتی ہیں۔ اگر واقعی ایسے چارجز وصول کیے جا رہے ہیں تو تاجر برادری کو یہ تشویش ہے کہ پھر سڑکوں کی بحالی میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے اور وہ کون سی رکاوٹیں ہیں جن کی وجہ سے سڑکیں طویل عرصے تک ٹوٹی پھوٹی حالت میں پڑی رہتی ہیں۔

عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ان فنڈز کو کس طرح استعمال کیا جا رہا ہے اور یہ یقینی بنانے کے لیے کون سا ادارہ جواب دہ ہے کہ متاثرہ سڑکیں بلا تاخیر کے دوبارہ تعمیر کی جائیں۔زبیر موتی والا اور ریحان حنیف نے متعلقہ اداروں کے درمیان رابطوں کے فقدان کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال ایس ایس جی سی، مقامی حکومتی اداروں، میونسپل اداروں اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی کے فقدان کی عکاسی کرتی ہے۔

مختلف محکموں کے درمیان انتظامی خامیوں یا اختیارات کے تصادم کا خمیازہ شہری کیوں بھگتیں۔انہوں نے مزید کہاکہ انفراسٹرکچر کی بہتری بلاشبہ ضروری ہے لیکن اسے اس طرح انجام دیناچاہیے جس سے عوامی سہولت، ٹریفک کی روانی، سڑکوں کی حفاظت اور معاشی سرگرمیوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے زور دیا کہ فوری طور پر ایسا مربوط نظام وضع کیا جائے جس کے تحت کھدائی، یوٹیلٹی تنصیبات اور سڑکوں کی بحالی کو الگ الگ ذمہ داریوں کے بجائے ایک ہی منصوبے کے لازمی اور مربوط حصے کے طور پر انجام دیا جائے۔

چیئرمین بی ایم جی اور صدر کے سی سی آئی نے شہریوں کو درپیش شدید مشکلات اور تجارتی و صنعتی سرگرمیوں پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کے پیش نظر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے اپیل کی کہ وہ یوٹیلٹی کمپنیوں کی جانب سے سڑکوں کی کھدائی سے متعلق موجودہ پالیسی اور آپریشنل نظام کا جامع جائزہ لینے کے احکامات جاری کریں۔انہوں نے یہ درخواست بھی کی کہ تمام متعلقہ فریقین کو ہدایت دی جائے کہ جہاں پائپ لائن کے کام مکمل ہو چکے ہیں وہاں سڑکوں کو فوری طور پر بحال کیا جائے اور ایک شفاف احتسابی طریقہ کار قائم کیا جائے جو ہر متعلقہ ادارے کی ذمہ داریوں اور ٹائم لائنز کو واضح طور پر متعین کرے۔

زبیر موتی والا اور ریحان حنیف نے اس امید کا اظہار کیا کہ وزیر اعلیٰ سندھ کی قیادت میں اس اہم مسئلے پر فوری توجہ دی جائے گی اور ایسے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے جن سے کراچی کے شہریوں، تاجروں اور صنعتکاروں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور بنیادی انفراسٹرکچر کے منصوبے بھی زیادہ منظم، جوابدہ اور عوام دوست انداز میں مکمل کیے جائیں۔