فنگل بیماریوں کے خلاف عالمی ادارہ صحت کا نیا ہدایت نامہ جاری
یو این
بدھ 1 جولائی 2026
21:45
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 01 جولائی 2026ء) عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او) نے فنگس یا پھپھوندی سے پھیلنے والی بیماریوں میں تیزرفتار اضافے اور ان کی ادویات کے خلاف جراثیمی مزاحمت سے نمٹنے کے لیے نئی رہنما ہدایات جاری کی ہیں۔ یہ عالمگیر صحت عامہ کے لیے ایسا خطرہ ہے جسے تاحال بیشتر ممالک کی طبی پالیسیوں میں مناسب جگہ نہیں مل سکی۔
ہر سال 30 کروڑ سے زیادہ لوگ فنگس سے پیدا ہونے والے امراض کا شکار ہوتے ہیں۔
یہ بیماریاں نہ صرف بڑی تعداد میں اموات کا سبب بنتی ہیں بلکہ طویل المدتی مرض، صحت کے مسائل اور عالمی سطح پر پیداواری صلاحیت میں نمایاں کمی کا باعث بھی ہیں۔'ڈبلیو ایچ او' نے اپنی رپورٹ بعنوان 'فنگس سے پھیلنے والی بیماریاں اور جراثیمی مزاحمت سے نمٹنے کے اقدامات کا خاکہ' میں ان امراض کی روک تھام، بروقت تشخیص، موثر علاج اور نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے عملی رہنمائی فراہم کی ہے۔
(جاری ہے)
بڑھتا ہوا عالمی خطرہ
ایسی بیماریوں میں عام جلدی امراض، جیسا کہ داداور ناخنوں کی خرابی کے علاوہ انتہائی سنگین جسمانی انفیکشن بھی شامل ہیں جو جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔ کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد، انتہائی نگہداشت میں زیر علاج مریضوں، ایچ آئی وی میں مبتلا افراد، اعضا کی پیوندکاری (ٹرانسپلانٹ) کروانے والوں اور سرطان کے مریضوں کو ان سے لاحق خطرات کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔
ان بیماریوں پر قابو پانے والی ادویات کے خلاف جراثیموں کی مزاحمت بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ انسانوں، جانوروں اور زرعی شعبے میں ایسی ادویات اور ان جیسے کیمیائی مرکبات کا وسیع پیمانے پر استعمال اس کی ایک بڑی وجہ ہے جبکہ ماحول میں موجود کیمیائی مادے بھی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔
'ڈبلیو ایچ او' کا واضح لائحہ عمل
جراثیمی مزاحمت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب بیکٹیریا، وائرس، فنگس یا طفیلیے ارتقا کے نتیجے میں ان ادویات کے خلاف طاقتور ہو جاتے ہیں جو انہیں ختم کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔
نتیجتاً، انفیکشن کا علاج پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔یہ مسئلہ آج بھی عالمی صحت اور ترقی کو درپیش سب سے بڑے خطرات میں شمار ہوتا ہے۔ 'ڈبلیو ایچ او' میں جراثیمی مزاحمت کے توڑ سے متعلق شعبے کے قائمقام ڈائریکٹر ژاں پیئر نیمزی نے کہا ہے کہ عالمی طبی اسمبلی کے 79ویں اجلاس میں منظور کیے گئے عالمی لائحہ عمل نے واضح کیا ہے کہ جراثیمی مزاحمت کو اب مزید نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔
ادارے کا جاری کردہ نیا خاکہ رکن ممالک کو آگے بڑھنے کے لیے واضح اور قابل عمل راستہ فراہم کرتا ہے۔عملدرآمد کے 4 بنیادی شعبے
'ڈبلیو ایچ او' نے اس رہنما خاکے میں تجویز کردہ عملی اقدامات کو چار باہم مربوط شعبوں میں تقسیم کیا ہے۔
پہلا شعبہ
صحت عامہ اور نظام ہائے صحت کو مضبوط بنانے کے اقدامات، جن میں عوامی آگاہی، ہنگامی تیاری، ادویات کے ذمہ دارانہ استعمال کے پروگرام، طبی عملے کی تربیت اور انفیکشن کی روک تھام شامل ہیں۔
دوسرا شعبہ
معیاری ادویات اور تشخیصی سہولیات تک منصفانہ رسائی کو یقینی بنانا اور تحقیق، اختراع اور ادویات کی دستیابی کے نظام کا فروغ۔
تیسرا شعبہ
لیبارٹریوں اور بیماریوں کی نگرانی کے نظام کی مضبوطی، تاکہ مریضوں کے بہتر علاج، صحت عامہ سے متعلق موثر فیصلوں اور مستقبل میں ممکنہ وباؤں کی تیاری میں مدد مل سکے۔
چوتھا شعبہ
فنگس کی بیماریوں کے پھیلاؤ اور جراثیمی مزاحمت کا سبب بننے والے سماجی، زرعی اور ماحولیاتی عوامل پر توجہ اور ون ہیلتھ اصول کے تحت انسانوں، جانوروں، پودوں اور ماحول کی صحت کو باہم مربوط سمجھ کر ضرورت اقدامات۔
مزید اہم خبریں
-
ملک کے متعدد علاقوں میں طوفانی بارشیں؛ مختلف حادثات میں 14 افراد جاں بحق، درجنوں زخمی
-
مصنوعی ذہانت کے بے لگام گھوڑے کو قابو میں لانا کیوں ضروری؟
-
اے آئی کے فوائد و نقصانات پر بین الاقوامی پینل کی رپورٹ کا خیرمقدم
-
غزہ: اسرائیلی توسیع پسندی سے شہری اور امدادی کارکن مشکلات کا شکار
-
لاہور میں 112 چالان والی موٹرسائیکل پکڑی گئی
-
ستھرا پنجاب کے ورکر نے خودکشی کی، ایک بزرگ کے پاس کفن کیلئے پیسے نہیں تھے لیکن مریم اورنگزیب متکبرانہ انداز میں کہتی کہ جہازخریدا ہے
-
مشیر سیاحت خیبرپختون خواہ ملک عدیل اقبال کا سوات میں کشتی الٹنے سے6 افراد کی ہلاکت پر گہرے دکھ کا اظہار
-
سیف اللہ جھیل کالام میں کشتی الٹنے سے خواتین اور بچوں سمیت ایک ہی خاندان 6 افراد جاں بحق
-
یورپ میں گرمی کی شدت موسمیاتی تبدیلی کی واضح نشانیاں: ڈبلیو ایچ او
-
تعلیم اور پریشانیوں پر صلاح کے لیے بچوں کا اے آئی پر بڑھتا انحصار
-
آبنائے ہرمز کا کھلنا خوش آئند، لیکن معاشی بحالی فوری ممکن نہیں: انکٹاڈ
-
وینزویلا زلزلہ: ملبے تلے دبے افراد کی بازیابی وقت کے خلاف دوڑ
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.