تعلیم اور پریشانیوں پر صلاح کے لیے بچوں کا اے آئی پر بڑھتا انحصار

یو این بدھ 1 جولائی 2026 21:45

تعلیم اور پریشانیوں پر صلاح کے لیے بچوں کا اے آئی پر بڑھتا انحصار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 01 جولائی 2026ء) دنیا بھر میں لاکھوں بچے پڑھنے لکھنے، مسائل حل کرنے اور اپنی ذاتی پریشانیوں کے بارے میں مشورہ لینے کے لیے مصنوعی ذہانت سے کام لے رہے ہیں مگر اس ٹیکنالوجی کے تیز تر پھیلاؤ کے مقابلے میں حفاظتی اقدامات تاحال موثر رفتار سے آگے نہیں بڑھ سکے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے 10 ممالک میں کیے گئے ایک نئے جائزے کے حوالے سے بتایا ہے کہ کم از کم دو کروڑ بچے کسی نہ کسی موقع پر مصنوعی ذہانت استعمال کر چکے ہیں جبکہ نوعمر اس ٹیکنالوجی کو بالغ افراد کے مقابلے میں تین گنا سے بھی زیادہ تیزی سے اپنا رہے ہیں۔

Tweet URL

اندازاً 20 لاکھ بچے اپنی ذاتی پریشانیوں اور ذہنی الجھنوں کے بارے میں مشورہ لینے کے لیے مصنوعی ذہانت سے رجوع کرتے ہیں جبکہ ایک کروڑ 30 لاکھ بچے اسے سکول کے اسباق اور ہوم ورک میں مدد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

ادارے کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت اب زندگیوں کا حصہ بن چکی ہے۔ یہ دنیا بھر میں بچوں کے بچپن کو تشکیل دے رہی ہے لیکن اس کے بعض پہلو مثبت اور بعض نقصان دہ ہیں۔

پوری نسل پر عالمی تجربہ

اگرچہ مصنوعی ذہانت تعلیم، تخلیقی صلاحیتیں اور نئی مہارتیں سیکھنے کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے لیکن بچوں کی ذہنی و جسمانی نشوونما اور جذباتی صحت پر اس کے اثرات سے متعلق شواہد تاحال پختہ نہیں ہیں۔

ادارے کے مطابق، موجودہ حالات میں گویا ایک پوری نسل عالمی سطح کے تجربے میں پروان چڑھ رہی ہے۔

یونیسف کے جائزے میں شامل بچوں میں سے ایک تہائی نے خدشہ ظاہر کیا کہ مصنوعی ذہانت لوگوں کو دھوکا دینے یا غلط معلومات پھیلانے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔ ہر چار میں سے ایک بچے نے یہ خوف ظاہر کیا کہ اس کی تصاویر یا ویڈیوز کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے تبدیل کر کے جنسی نوعیت کی جعلی تصاویر یا ویڈیوز میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

ادارے نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے لیے مناسب ضابطے نہ ہونے کے نتائج سب سے پہلے بچوں کو بھگتنا پڑتے ہیں حالانکہ نہ تو انہیں اس ٹیکنالوجی کے ڈیزائن پر کوئی اختیار حاصل ہوتا ہے اور نہ ہی اس پر کہ ان کی ذاتی معلومات کس طرح جمع، محفوظ یا استعمال کی جائیں گی۔

یونیسف کی سفارشات

یونیسف نے مصنوعی ذہانت کے انتظام سے متعلق پہلے عالمی مکالمے سے قبل حکومتوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے لیے قوانین اور ضابطوں کی تشکیل میں بچوں کے حقوق کو بنیادی اہمیت دی جائے۔

ادارے نے اس حوالے سے درج ذیل اقدامات کی سفارش کی ہے:

  • مصنوعی ذہانت کے ذریعے بچوں کے جنسی استحصال کے خلاف مضبوط حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔
  • بچوں کی نشوونما پر مصںوعی ذہانت کے اثرات سے متعلق تحقیق میں سرمایہ کاری بڑھائی جائے۔
  • مصنوعی ذہانت کے نظام زیادہ محفوظ، شفاف اور جواب دہ بنائے جائیں۔
  • بچوں اور والدین کی ڈیجیٹل آگاہی اور تربیت کو بہتر بنایا جائے۔

  • ڈیجیٹل سہولتوں تک رسائی کو وسیع کیا جائے تاکہ مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھانے والوں اور محروم رہ جانے والوں کے درمیان بڑھتی خلیج کو ختم کیا جا سکے۔

یونیسف نے واضح کیا ہے کہ آج مصنوعی ذہانت کے بارے میں کیے جانے والے فیصلے ہی آئندہ دہائیوں تک بچوں کی سلامتی، رازداری، ذہنی و جسمانی فلاح اور یکساں مواقع تک رسائی کا تعین کریں گے۔