یورپ میں گرمی کی شدت موسمیاتی تبدیلی کی واضح نشانیاں: ڈبلیو ایچ او
یو این
بدھ 1 جولائی 2026
21:45
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 01 جولائی 2026ء) یورپ شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے جہاں ہسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈ مریضوں سے بھرتے جا رہے ہیں۔ سپین میں چند روز کے دوران گرمی کے نتیجے میں 300 سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں اور لندن میں ہنگامی طبی امداد کے ضرورت مند افراد کی تعداد تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
یورپ
میں درجۂ حرارت عالمی اوسط کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ شدید گرمی کی لہریں اب کبھی کبھار پیش آنے والے غیر معمولی واقعات نہیں رہیں بلکہ بار بار آنے والے بحران بن گئی ہیں جو پہلے سے زیادہ تواتر، شدت اور طوالت اختیار کر رہی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) میں یورپ کے لیے علاقائی ڈائریکٹر ڈاکٹر ہینز کلوگ نے کہا ہے کہ گرمی کی لہر دراصل آنے والے وقت کی ایک جھلک ہے۔
(جاری ہے)
پیشگی احتیاط کی افادیت
ڈاکٹر
کلوگ کا کہنا ہے کہ شدید موسمی حالات میں احتیاطی اور حفاظتی اقدامات موثر ثابت ہوتے ہیں۔ اگر 2023 میں یورپی ممالک نے حفاظتی اقدامات نہ اٹھائے ہوتے تو آج گرمی سے ہونے والی اموات موجودہ تعداد سے تقریباً 80 فیصد زیادہ ہوتیں اور 80 سال یا اس سے زیادہ عمر کے لوگوں میں یہ تعداد دوگنا ہو سکتی تھی۔شدید گرمی سے نمٹنے کے لیے جامع منصوبہ بندی، انتباہی نظام کا قیام، ٹھنڈی پناہ گاہوں کا اہتمام اور کمزور و حساس افراد تک فعال رسائی جیسے اقدامات لوگوں کی جانیں بچا رہے ہیں۔
تاہم، یورپ کے تمام ممالک اور علاقوں میں ان اقدامات کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔شدید گرمی سے بچاؤ کے طریقے
'ڈبلیو ایچ او' نے گھروں میں ایئر کنڈیشنر کی غیرموجودگی میں شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے رہنمائی جاری کرتے ہوئے کہا ہے:
- دن کے وقت دھوپ اور گرمی کو روکنے کے لیے پردے اور بلائنڈز بند رکھیں۔
- رات کے وقت جب درجۂ حرارت کم ہو جائے تو کھڑکیاں کھول دی جائیں۔
- پیاس محسوس ہونے کا انتظار کیے بغیر وقفے وقفے سے پانی پیتے رہیں۔ میٹھے مشروبات، شراب اور کیفین سے پرہیز کریں۔
- دوپہر کے شدید دھوپ والے اوقات میں باہر نکلنے سے گریز کریں۔
- معمر ہمسایوں اور رشتہ داروں کی خیریت ضرور دریافت کریں۔ ایک مختصر فون کال بھی کسی کی جان بچا سکتی ہے۔
گرمی سے بچاؤ کے مثالی اقدامات
'ڈبلیو ایچ او' نے کہا ہے کہ متعدد ممالک اور شہروں نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے موثر تیاری کی ہے جو دوسروں کے لیے مثال ہے۔
سپین کے شہر بارسلونا نے امسال موسم گرما میں محفوظ پناہ گاہوں کا نیٹ ورک بڑھا کر 500 سے زیادہ مقامات تک پھیلا دیا ہے جس میں لائبریریاں، شہری مراکز، پارک اور دوا خانے شامل ہیں۔
پیرس نے کمزور، بیمار اور معمر افراد کی خیریت معلوم کرنے کے لیے اپنا رجسٹری نظام فعال کر دیا ہے، جبکہ ہنگامی خدمات پر دباؤ کم رکھنے کے لیے عوامی مقامات پر شراب کی فروخت پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
اٹلی کے بعض علاقوں میں دن کے انتہائی گرم اوقات میں کھلے آسمان تلے کام کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ علاوہ ازیں، مالی معاونت بھی متعارف کرائی گئی ہے تاکہ مزدوروں کی آمدنی متاثر نہ ہو۔
ڈاکٹر
کلوگ نے کہا ہے کہ وہ 6 جولائی کو یورپی خطے کے تمام رکن ممالک میں ہنگامی حالات، ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی کے ذمہ دار قومی رابطہ کاروں کا ہنگامی اجلاس طلب کریں گے۔ اس اجلاس میں صرف ایک بنیادی سوال زیر بحث ہو گا کہ گرمی کی اس لہر سے کیا سبق سیکھا گیا ہے، کیا سب اگلی گرمی کی لہر سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں اور 'ڈبلیو ایچ او' اس معاملے میں کیسے مدد دے سکتا ہے۔مزید اہم خبریں
-
ملک کے متعدد علاقوں میں طوفانی بارشیں؛ مختلف حادثات میں 14 افراد جاں بحق، درجنوں زخمی
-
مصنوعی ذہانت کے بے لگام گھوڑے کو قابو میں لانا کیوں ضروری؟
-
اے آئی کے فوائد و نقصانات پر بین الاقوامی پینل کی رپورٹ کا خیرمقدم
-
غزہ: اسرائیلی توسیع پسندی سے شہری اور امدادی کارکن مشکلات کا شکار
-
لاہور میں 112 چالان والی موٹرسائیکل پکڑی گئی
-
ستھرا پنجاب کے ورکر نے خودکشی کی، ایک بزرگ کے پاس کفن کیلئے پیسے نہیں تھے لیکن مریم اورنگزیب متکبرانہ انداز میں کہتی کہ جہازخریدا ہے
-
مشیر سیاحت خیبرپختون خواہ ملک عدیل اقبال کا سوات میں کشتی الٹنے سے6 افراد کی ہلاکت پر گہرے دکھ کا اظہار
-
سیف اللہ جھیل کالام میں کشتی الٹنے سے خواتین اور بچوں سمیت ایک ہی خاندان 6 افراد جاں بحق
-
یورپ میں گرمی کی شدت موسمیاتی تبدیلی کی واضح نشانیاں: ڈبلیو ایچ او
-
تعلیم اور پریشانیوں پر صلاح کے لیے بچوں کا اے آئی پر بڑھتا انحصار
-
آبنائے ہرمز کا کھلنا خوش آئند، لیکن معاشی بحالی فوری ممکن نہیں: انکٹاڈ
-
وینزویلا زلزلہ: ملبے تلے دبے افراد کی بازیابی وقت کے خلاف دوڑ
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.