وینزویلا زلزلہ: ملبے تلے دبے افراد کی بازیابی وقت کے خلاف دوڑ

یو این بدھ 1 جولائی 2026 21:45

وینزویلا زلزلہ: ملبے تلے دبے افراد کی بازیابی وقت کے خلاف دوڑ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 01 جولائی 2026ء) وینزویلا میں گزشتہ ہفتے آنے والے دو تباہ کن زلزلوں کے بعد ملبے تلے دبے لوگوں کو زندہ بچانے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ اس آفت کے نتیجے میں اب تک 1,719 ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے اور5,034 افراد زخمی جبکہ 15,866 متاثر یا بے گھر ہو چکے ہیں۔

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) نے بتایا ہےکہ زلزلے سے بری طرح متاثرہ ریاست لا گوائیرا میں خوراک کی شدید قلت ہے۔

بنیادی سہولیات درہم برہم ہو گئی ہیں، مواصلاتی رابطے منقطع ہیں اور امداد تک محدود رسائی کے باعث لوگوں میں بے چینی اور کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

Tweet URL

نصف متاثرین اپنے رشتہ داروں یا ہمسایوں کے ہاں پناہ گزین ہیں اور 40 فیصد سڑکوں، عوامی مقامات، گرجا گھروں، سکولوں یا عارضی پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

(جاری ہے)

ان میں ایسے بچے بھی شامل ہیں جو اپنے والدین یا سرپرستوں سے بچھڑ گئے ہیں یا تنہا ہیں۔

بیماریاں پھیلنے کا خطرہ

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، زلزلے کے بعد صحت کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہے۔ متاثرہ علاقوں خسرہ، خناق، کالی کھانسی، زرد بخار، ڈینگی، چکن گونیا، زیکا، اور ملیریا جیسی بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

زلزلے سے پہلے بھی حفاظتی ٹیکوں کی شرح کم تھی، اور اب بے گھر افراد کی ویکسین تک رسائی بھی محدود ہو گئی ہے جس کے نتیجے میں صحت عامہ کو لاحق خطرات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

ادارے کے ترجمان کرسچین لنڈمیئر نے کہا ہے کہ صحت کی سہولیات شدید دباؤ میں ہیں، کیونکہ زخمیوں کی بڑی تعداد کے باعث ہسپتالوں کی گنجائش جواب دے رہی ہے۔ علاج میں مسلسل تاخیر ہو رہی ہے، حفاظتی طبی اصول متاثر ہو رہے ہیں اور طبی عملہ شدید ذہنی و جسمانی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔

مردہ خانوں اور فرانزک خدمات کا نظام تقریباً مفلوج ہو چکا ہے جبکہ ہلاک اور لاپتہ افراد کا درست اندراج اور ریکارڈ رکھنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔

انہوں نے بتایا ہے کہ زلزلوں کے بعد ریاست لا گوائیرا میں متعدد طبی کارکن تاحال لاپتا ہیں جن میں زچہ و بچہ کی نگہداشت سنبھالنے والا عملہ بھی شامل ہے۔ موجودہ حالات کے باعث حاملہ خواتین اور نومولود بچوں کی طبی دیکھ بھال میں نہایت سنگین خلا پیدا ہو گیا ہے۔

یونیسف کا امدادی اقدام

'یو این ایچ سی آر' کی ترجمان کارلوٹا وولف نے بتایا ہے کہ امداد تک محدود رسائی کی وجہ سے متاثرہ آبادیوں میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ لوگوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے اور ہر شخص جلد از جلد امداد حاصل کرنا چاہتا ہے۔

ہزاروں لوگ عارضی پناہ گاہوں میں مقیم ہیں جو رازداری، تحفظ، محفوظ ماحول، صفائی اور بنیادی آرام دہ سہولیات جیسے کم از کم انسانی معیار پر پورا نہیں اترتیں۔

عالمی ادارہ اطفال (یونیسف) کی جانب سے 47 میٹرک ٹن طبی سامان، صاف پانی اور تعلیمی ضروریات پر مشتمل امدادی کھیپ وینزویلا پہنچ گئی ہے۔ یہ سامان آئندہ تین ماہ کے دوران ایک لاکھ سے زیادہ بچوں اور ان کے خاندانوں کی مدد کے لیے کافی ہو گا۔ تاہم ادارے کا اندازہ ہے کہ 6 لاکھ 80 ہزار بچوں کو امداد کی ضرورت ہے جس کے لیے 5 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کے وسائل درکار ہیں۔