Live Updates

آبنائے ہرمز کا کھلنا خوش آئند، لیکن معاشی بحالی فوری ممکن نہیں: انکٹاڈ

یو این بدھ 1 جولائی 2026 21:45

آبنائے ہرمز کا کھلنا خوش آئند، لیکن معاشی بحالی فوری ممکن نہیں: انکٹاڈ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 01 جولائی 2026ء) اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ مکمل طور پر کھولنے سے معیشتوں کو بڑی حد تک مسائل سے نجات ملے گی لیکن ترقی پذیر ممالک کے لیے خوراک اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا مسئلہ مستقبل قریب میں بھی برقرار رہے گا۔

اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی(انکٹاڈ) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی سمجھوتے کے بعد جون کے وسط میں آبنائے سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تیزی سے بحال ہونے لگی تھی، تاہم حالیہ دنوں فریقین کے مابین شروع ہونے والی نئی کشیدگی باعث اس رفتار میں کمی آ گئی ہے۔

Tweet URL

اطلاعات کے مطابق ایران نے فرانس اور عمان کی اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے جس میں آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹا کر بین الاقوامی تجارت کو محفوظ بنانے کی بات کی گئی تھی۔

(جاری ہے)

علاوہ ازیں، ایران نے عالمی بحری ادارے(آئی ایم او) کی اس تجویز کو بھی قبول نہیں کیا جس میں عمان کے ساحل کے قریب جہازرانی کے لیے نیا بحری راستہ کھولنے کی سفارش کی گئی تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ خام تیل کی ترسیل بتدریج معمول پر آ سکتی ہے لیکن مال برداری کے معاہدوں، سپلائی چین اور خوراک کی فراہمی کے نظام کو بحال ہونے میں مزید وقت درکار ہو گا۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ خوراک کی مسلسل بلند قیمتیں ترقی پذیر ممالک میں شدید غذائی قلت کے مسئلے کو مزید سنگین بنا سکتی ہیں۔

کمزور معیشتوں کا بھاری نقصان

انکٹاڈ کے مطابق، توانائی کی قیمتوں میں اضافہ نقل و حمل کے اخراجات، زرعی پیداوار کی لاگت اور مہنگائی میں اضافے کا باعث بنتا ہے جس کے نتیجے میں خوراک کی قیمتیں ابتدائی بحران ختم ہونے کے بعد بھی طویل عرصہ تک بلند رہتی ہیں۔

خاص طور پر کابو ویڈ اور میکرونیشیا جیسے جزائر پر مشتمل چھوٹے ممالک خوراک اور تیل کی درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے انہیں ایک ہی وقت میں خوراک اور ایندھن دونوں کی بلند قیمتوں کے بحران کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا کی 61 کمزور معیشتیں ایسی ہیں جو بیک وقت تیل اور اناج کی درآمدات کے بحران سے متاثر ہو سکتی ہیں۔

ترقی پذیر اور جزائر پر مشتمل چھوٹے ممالک کی حکومتوں کے مالی وسائل بھی محدود ہوتے ہیں جس کے باعث ان کے لیے ایسے معاشی دھچکوں کو برداشت کرنا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ اگر ان ممالک کو وسائل جمع کرنے میں دشواری پیش آئے، قرضوں کی ادائیگی کا بوجھ بڑھ جائے، بیرون ملک سے ترسیلات زر کم ہو جائیں یا بین الاقوامی امداد میں کمی آ جائے تو تجارتی بحران کے اثرات کہیں زیادہ شدید ہو سکتے ہیں۔

غذائی تحفظ کے لیے خطرات

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خوراک درآمد کرنے والے ممالک میں اگر مختصر عرصہ کے لیے بھی غذائی اشیا لوگوں کی پہنچ سے دور ہو جائیں تو اس کے بچوں کی صحت پر دیرپا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں جن میں شدید دبلا پن اور قد کے لحاظ سے وزن میں غیرمعمولی کمی بھی شامل ہیں۔

اگر خوراک کی حقیقی قیمتوں میں پانچ فیصد اضافہ ہو جائے تو غربت میں زندگی گزارنے والے بچوں میں شدید دبلے پن کا خطرہ 15 فیصد زیادہ ہوتا ہے اور دیہی علاقوں کے بے زمین اور انتہائی غریب خاندانوں کے بچوں میں یہی خطرہ 26 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

بین الاقوامی تعاون کی ضرورت

رپورٹ میں عالمی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ترقی پذیر ممالک کو درآمدی اخراجات میں اضافے کا مقابلہ کرنے میں مدد دے تاکہ وہ خوراک اور ایندھن کی قیمتوں کو نیچے لا سکیں اور آئندہ تجارتی رکاوٹوں سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط بنا سکیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے بحران سے جنم لینے والے معاشی اثرات مہینوں تک محسوس کیے جاتے رہیں گے اور ترقی پذیر ممالک ان سے بری طرح متاثر ہوں گے۔ انہوں نے فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ جنگ بندی کا احترام کریں اور امن برقرار رکھنے کی کوششوں کو مزید مضبوط بنائیں۔

Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات