یوکرین جنگ میں ڈرونوں کا بڑھتا استعمال عام شہریوں کے لیے خطرناک

یو این اتوار 5 جولائی 2026 12:15

یوکرین جنگ میں ڈرونوں کا بڑھتا استعمال عام شہریوں کے لیے خطرناک

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 05 جولائی 2026ء) یوکرین کی جنگ میں بڑے پیمانے پر ڈرون حملوں کے نتیجے میں شہریوں کے لیے نئے اور پیچیدہ خطرات جنم لے رہے ہیں۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ ان خطروں کے اثرات جنگ کے بعد بھی برقرار رہیں گے جس سے بحالی کے عمل، زرعی سرگرمیوں اور عالمگیر غذائی تحفظ کو طویل مدتی نقصان ہو سکتا ہے۔

یوکرین میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام(یو این ڈی پی) کے مشیر اعلیٰ پال ہیزلپ نے یو این نیوز کو بتایا ہے کہ جنگ کا دائرہ پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسیع، گہرا اور مہلک ہو گیا ہے۔

روس کا حملہ شروع ہونے کے بعد ابتدائی مرحلے میں دونوں فریق نسبتاً مستقل مورچوں سے لڑ رہے تھے، لیکن اب ڈرون وسیع علاقوں کی مسلسل نگرانی کرتے ہیں، معمولی سی نقل و حرکت کی بھی فوری نشاندہی کر لیتے ہیں، توپ خانے کو ہدف کی جانب رہنمائی دیتے ہیں یا خود ہی بارودی مواد لے جا کر حملہ کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

اس نئی صورت حال نے میدان جنگ میں زندہ بچنے کے امکانات کو نمایاں طور پر کم کر دیا ہے۔

پال ہیزلپ 'یو این ڈی پی' میں بارودی سرنگوں کے خاتمے کے شعبہ میں مشیر اعلیٰ ہیں جن کا کہنا ہے کہ روایتی جنگ میں عموماً ہر چار متاثرین میں سے ایک ہلاک اور تین زخمی ہوتے ہیں، لیکن یوکرین میں اب یہ تناسب الٹ گیا ہے اور ہر چار میں سے تقریباً تین افراد میدان جنگ میں ہلاک ہو جاتے ہیں۔

ڈرون حملوں کی بدلتی نوعیت

انہوں نے بتایا کہ وسیع پیمانے پر ڈرون طیاروں کے استعمال نے حملوں کے بعد باقی رہ جانے والے بارودی خطرات کی نوعیت بھی بدل دی ہے۔

اب ڈرون صرف بم نہیں گراتے بلکہ مارٹر گولے، دستی بم اور راکٹ سے چلنے والے گرینیڈ جیسے روایتی ہتھیار انتہائی درستگی کے ساتھ اپنے اہداف تک پہنچاتے ہیں۔

بعض ڈرون ایسے چھوٹے بارودی بم بکھیرتے ہیں جو زمین سے ٹکراتے ہی پھٹ جاتے ہیں جبکہ بعض ایسے ہیں جو تاخیر سے پھٹتے ہیں یا اس وقت تک خاموش رہتے ہیں جب تک کوئی شخص لاعلمی میں انہیں چھیڑ نہ دے۔

اگر کوئی شخص اپنے کتے کو سیر کرانے نکلے یا کوئی بچہ سکول جا رہا ہو تو بارودی سرنگ یا مواد پر قدم رکھنے سے اس کی ٹانگ کٹ سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلسل بدلتے خطرات نے یوکرین میں بم ناکارہ بنانے والے ماہرین اور امدادی اداروں کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ ہر وقت اپنی حکمت عملی اور طریقۂ کار کو نئی جنگی ٹیکنالوجی کے مطابق ڈھالتے رہیں۔

اسی مقصد کے لیے بین الاقوامی ماہرین یوکرینی حکام اور مقامی اداروں کے ساتھ مل کر ایسے طریقے وضع کر رہے ہیں جن کے ذریعے بارودی مواد اور دیگر دھماکا خیز خطرات کو محفوظ انداز میں ختم کیا جا سکے گا۔

خطروں کے سائے میں زندگی

محاذ جنگ سے دور رہنے والے لاکھوں یوکرینی شہریوں کے لیے ڈرون اب روزمرہ زندگی کا مستقل حصہ بن گئے ہیں۔ فضائی حملے کے سائرن کسی بھی وقت بج سکتے ہیں، جس سے بچوں کی پڑھائی، صبح کی چائے یا روزمرہ خریداری جیسے معمولات اچانک رک جاتے ہیں اور لوگوں کو فوری طور پر پناہ گاہوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔

اگر کسی حملے میں جانی نقصان نہ بھی ہو، تب بھی اَن پھٹے ڈرون پورے محلوں اور گھروں کو اس وقت تک غیر محفوظ بنا دیتے ہیں جب تک بم ناکارہ بنانے والی ٹیمیں انہیں وہاں سے ہٹا نہ دیں۔

انہوں نے کہا بتایا کہ یوکرین میں مصنوعی ذہانت، جدید سینسرز اور روبوٹکس جیسی ٹیکنالوجی پر ہونے والا کام دنیا بھر میں بارودی سرنگوں کی صفائی کے طریقوں میں انقلاب لا سکتا ہے۔ بہتر ٹیکنالوجی اور درست معلومات پر مبنی فیصلہ سازی کے ذریعے امدادی ادارے اپنے محدود وسائل میں بھی بارودی مواد کو زیادہ تیزی سے صاف کر سکیں گے اور متاثرہ علاقوں کی بحالی کا عمل جلد ممکن ہو سکے گا۔