بھارت ،حکومت کے کامیابی کے دعوئوں کے باوجود مائو نواز شورش جاری

اتوار 5 جولائی 2026 14:12

نئی دہلی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 05 جولائی2026ء) بھارتی حکومت کے جیت کے دعوئوں کے باوجودبھارت کے ریڈ کوریڈور میں مائو نواز شورش جاری ہے جہاں مسلسل بارودی سرنگوں کے حملے ہورہےہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سیکورٹی کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ یہ شورش اب بھی سالانہ بھارتی فورسز کے درجنوں اہلکاروں کی زندگیاں نگلتی ہے۔

جنوری 2025 میں نکسلیوں نے چھتیس گڑھ کے علاقے بیجاپورمیں گھات لگا کر کیے ، ایک حملے میں ڈسٹرکٹ ریزرو گارڈ زکے ا یک ڈرائیور سمیت نو اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔شورش کے باعث2000 سے 2025 تک12,100 سے زیادہ لوگ مارے گئے جن میں بھارتی فورسز کے 2,722 اہلکار، 4,134 عام شہری اور 5,001 ماو نواز شامل ہیں۔ اگرچہ بھارتی فورسز پر حملے 2010 میں 2,213 سے کم ہو کر 2025 میں تقریباً 400 رہ گئے، تاہم2025 میں مائونواز سی پی آئی کی طرف سے بارودی سرنگوں کے حملے بڑھ کر 53 ہو گئے۔

(جاری ہے)

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 2025 میں نمبالا کیشوا رائو جیسے لیڈروں کو نشانہ بنانے سمیت ظالمانہ کارروائیوں سے آدیواسی قبائلی آبادی مزید دورہوگئی اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مائونواز) کے لیے بھرتی کو جاری رکھنا آسان ہوگیا۔ مسلسل فوجی کارروائیوں کی حکمت عملی سے زمینوں، جنگلات اور وسائل کے حقوق پر بنیادی سماجی و اقتصادی تنازعات حل نہیں ہوئے بلکہ 1967 کی نکسل وادی بغاوت کے 58 سال بعد بھی شورش مسلسل جاری ہے۔